الشيخ مصطفى الهجري
قرآنِ مجید حضرت آدم علیہ السلام کے واقعے کو محض ایک گزری ہوئی کہانی کے طور پر بیان نہیں کرتا بلکہ اس میں انسان کی مستقل فطرت اور ہمیشہ رہنے والے اصول کو بیان کرتا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے بندے کو ہدایت، نصیحت اور رہنمائی عطا کرتا ہے اور اس کے لیے ایسی حدیں مقرر کرتا ہے جو اس کی فطرت اور عزت کی حفاظت کرتی ہیں۔ لیکن انسان اکثر اپنی خواہش اور چیزوں کو حاصل کرنے کے لالچ میں آ جاتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ اس کی چاہت پوری کرنے کے لیے اللہ کے حکم کو توڑنا ضروری ہے۔ چنانچہ وہ نافرمانی کر بیٹھتا ہے، پھر اس کے بعد اسے ان تکلیف دہ نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن سے اللہ نے پہلے ہی اسے منع کیا تھا اور وہ منع دراصل اس کی بھلائی اور رحمت ہی کے لیے ہوتا ہے۔
علامہ طباطبائیؒ نے اس حقیقت کو بہت خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ دراصل انسان کی اسی پست اور مادی فطرت کی عکاسی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا، اسے بے شمار نعمتیں عطا کیں اور اسے اعتدال اور توازن کے حسن میں رکھا، پھر اسے حد سے تجاوز کرنے اور خواہشات کی پیروی سے روک دیا۔ لیکن شیطان انسان کو یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ دنیا سے تعلق اور اللہ کو بھلا دینا ہی اسے اسباب پر مکمل اختیار دے سکتا ہے اور اسی طرح وہ زندگی کی تمام لذتیں حاصل کر کے انہیں ہمیشہ باقی رکھ سکتا ہے۔ یہی وہ بڑا دھوکہ ہے جو نسل در نسل انسانوں کی زندگی میں بار بار دہرایا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے احکام انسان کے لیے محرومی نہیں بلکہ دراصل اسے خود اپنی ذات اور اپنے لالچ کے برے انجام سے محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو درخت کے قریب جانے سے اس لیے منع نہیں کیا کہ اس کے قرب میں کوئی تنگی تھی یا اطاعت انسان کو کسی خیر سے محروم کرتی ہےبلکہ اس لیے کہ نافرمانی کے پیچھے انسان کے لیے پردے کا ہٹ جانا، تنزلی اور زوال پوشیدہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ (البقرة: 35) اور ہم نے کہا: اے آدم! تم اور تمہاری زوجہ جنت میں قیام کرو اور اس میں جہاں سے چاہو فراوانی سے کھاؤ اور اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ تم دونوں زیادتی کا ارتکاب کرنے والوں میں سے ہو جاؤ گے۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ کا یہ منع دراصل وسیع اجازت کے دائرے میں رکھا گیا تھا: ﴿فَكُلَا مِنْ حَيْثُ شِئْتُمَا﴾ اور اس میں جہاں سے چاہو فراوانی سے کھاؤ۔
اس میں واضح اشارہ ہے کہ انسان کی زندگی میں حرام چیزیں بہت کم ہیں جبکہ حلال اور نعمتوں کا دائرہ بہت وسیع ہے لیکن انسان کی خواہش ہمیشہ حد سے آگے دیکھنے اور اس سے ماورا چیزوں کی خواہش کرنے سے باز نہیں آتی۔
پھر شیطان آ کر انسان کی اسی پرانی کمزوری کو نشانہ بناتا ہے یعنی ہمیشہ زندہ رہنے کی خواہش، اقتدار کا لالچ اور اسبابِ دنیا پر مکمل قبضہ حاصل کرنے کی تمنا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ الشَّيْطَانُ قَالَ يَا آدَمُ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَىٰ شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَا يَبْلَىٰ﴾ (طه: 120)
پھر شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا اور کہا: اے آدم! کیا میں تمہیں ہمیشگی کے درخت اور لازوال سلطنت کے بارے میں بتاؤں؟ اور یہ آیت تقریباً انسانی فتنے کی پوری تاریخ کا خلاصہ پیش کرتی ہے؛ کتنے ہی انسان ایسے گزرے ہیں جنہوں نے اللہ کے حکم کی مخالفت اس لیے کی کہ وہ کسی طرح کی دائمی بقا (خواہ معنوی ہو یا مادی) حاصل کر لیں یا ایسی طاقت حاصل کریں جو کبھی ختم نہ ہو، جیسے مال، عزت و مقام، خواہشات، طاقت، اثر و رسوخ یا دوسروں پر برتری۔ دراصل یہ ایک ہی وہم ہے کہ ساری بھلائی صرف اس بات میں ہے کہ انسان ہر چیز پر قبضہ جما لے اور اپنی خواہشات پوری کرنے کے لیے اللہ کی حدود کو پار کر جائے۔
قرآن کریم جلد ہی یہ واضح کر دیتا ہے کہ یہ راستہ انسان کو اس انجام تک نہیں پہنچاتا جس کا شیطان نے وسوسہ دیا تھا بلکہ اس کے نتیجے میں انسان کی کمزوریاں اور عیب ظاہر ہو جاتے ہیں اور اس کی اندرونی ناتوانی سامنے آ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَأَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ ۚ وَعَصَىٰ آدَمُ رَبَّهُ فَغَوَىٰ ﴾ (طه: 121)
چنانچہ دونوں نے اس میں سے کھایا تو دونوں کے لیے ان کے ستر کھل گئے اور دونوں نے اپنے اوپر جنت کے پتے گانٹھنے شروع کر دیے اور آدم نے اپنے رب کے حکم میں کوتاہی کی تو غلطی میں رہ گئے ۔
اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ﴿ فَدَلَّاهُمَا بِغُرُورٍ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ ۖ وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَا أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُلْ لَكُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُبِينٌ ﴾ (الأعراف: 22) پھر فریب سے انہیں (اس طرف) مائل کر دیا، جب انہوں نے درخت کو چکھ لیا تو ان کے شرم کے مقامات ان کے لیے نمایاں ہو گئے اور وہ جنت کے پتے اپنے اوپر جوڑنے لگے اور ان کے رب نے انہیں پکارا: کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت سے منع نہیں کیا تھا؟ اور تمہیں بتایا نہ تھا کہ شیطان یقینا تمہارا کھلا دشمن ہے؟
پس نافرمانی عام انسان کی حفاظت نہیں کرتی اور نہ ہی بلندی عطا کرتی ہے بلکہ یہ اس کے چھپے ہوئے عیوب کو ظاہر کر دیتی ہے اور اس کی اپنی کمزوری، عیب اور محتاجی کو آشکار کر دیتی ہے۔ انسان جتنا زیادہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ طاقتور اور بااختیار ہو رہا ہے، حقیقت میں اتنا ہی زیادہ وہ محتاج، بےچین اور اضطراب کا شکار ہوتا چلا جاتا ہے۔
یہاں ایک اٹل حقیقت سامنے آتی ہے کہ انسان نافرمانی کے بعد اپنی باقی ماندہ نعمتوں کے ذریعے اپنے نقصانات کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے، جیسا کہ علامہ طباطبائیؒ نے بھی اشارہ فرمایا ہے، یعنی وہ ظاہری پردے سے اپنے باطن کے بگاڑ کو چھپانے لگتا ہے۔ وہ سکون کھو دیتا ہے تو اسے مال و دولت میں تلاش کرتا ہے، عزت و وقار سے محروم ہوتا ہے تو لوگوں کی تعریف و ستائش سے اسے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اللہ سے تعلق کی کمی کو مختلف لذتوں کی کثرت سے بدلنے لگتا ہےلیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر وہ علاج جو اللہ سے دور ہو وہ ایک نئے درد میں بدل جاتا ہے۔ یہ ایسی پر بات ہے جس کی تصدیق زندگی کا تجربہ اور وحی بھی کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ ﴾ (طه: 124) اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا اسے یقینا ایک تنگ زندگی نصیب ہو گی اور بروز قیامت ہم اسے اندھا محشور کریں گے۔
پس تنگی ہمیشہ مادی غربت ہی نہیں ہوتی بلکہ یہ اندرونی کمزوری بھی ہو سکتی ہے، بےچینی، خوف اور خواہشات کا مسلسل بدلتے رہنا بھی ہو سکتا ہے، جس میں انسان کو کہیں بھی سکون نصیب نہیں ہوتا۔اس بات کو دل سے سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز سے منع کرتا ہے تو وہ دراصل رحمت ہی کے طور پر منع کرتا ہے۔ وہ سبحانہ تعالی انسان کو خود انسان سے زیادہ بہتر جانتا ہے: ﴿ أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ ﴾ (الملك: 14) کیا جس نے پیدا کیا اس کو علم نہیں؟ حالانکہ وہ باریک بین، بڑا باخبر بھی ہے۔
ہر وہ غلط خواہش جس پر عمل کیا جاتا ہے، ابتدا میں یہی گمان ہوتا ہے کہ یہ اسے لذت یا خوشی دے گی لیکن جب وہ اللہ کے مقرر کردہ میزان کے خلاف ہو تو اس کا انجام آخرکار بدبختی ہی ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ بعض ایسی چیزیں بھی جو وقتی طور پر کچھ لذت دے دیتی ہیں، قرآن یاد دلاتا ہے کہ اگر وہ اللہ کی اطاعت سے جدا ہو جائیں تو وہ دھوکے کا سامان بن جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ ﴾ (آل عمران: 185) (ورنہ) دنیاوی زندگی تو صرف فریب کا سامان ہے۔
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ نعمتیں خود اپنی ذات میں قابلِ مذمت ہیں بلکہ مذمت اس بات کی ہے کہ انسان کا دل ان نعمتوں سے ایسا تعلق قائم کر لے کہ وہ اسے نعمت دینے والے (اللہ) سے غافل کر دیں اور وہ ان نعمتوں کو مقصدِ حیات بنا لے بجائے اس کے کہ انہیں اللہ تک پہنچنے کا ذریعہ سمجھا جائے۔
حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ انسان اپنی کامل حیثیت کے ذریعے نہیں بلکہ توبہ اور رجوع کے ذریعے نجات پاتا ہے۔ اگرچہ ان سے لغزش ہو گئی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے توبہ کا دروازہ کھول دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَتَلَقَّىٰ آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾ (البقرة: 37)
پھر آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ لیے تو اللہ نے آدم کی توبہ قبول کر لی، بے شک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا، مہربان ہے۔
اس قرآنی مثال کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ انسان اپنے آپ سے مایوس ہو جائےبلکہ یہ سکھانا ہے کہ اس کی نجات کہاں ہے: یہ نجات اللہ کے حکم کو آزمائش سے پہلے سننے اور ماننے میں ہے، شیطان کے وعدوں کے دھوکے میں نہ آنے میں ہے اور جب اس پر اپنی کمزوری ظاہر ہو جائے تو فوراً توبہ کی طرف لوٹ آنے میں ہے۔
آج کے انسان کو کتنی ضرورت ہے کہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کے واقعے کو اپنی زندگی کے آئینے میں دیکھے: کتنے ہی ایسے ممنوع درخت ہیں جنہیں وہ سمجھتا ہے کہ وہ اسے ہمیشہ کی زندگی، مکمل اختیار یا کمال تک پہنچا دیں گے! اور کتنے ہی الٰہی احکام وہ پہلے پابندی سمجھ لیتا ہے لیکن وقت گزرنے کے بعد اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دراصل رحمت اور حفاظت کی دیوار تھے۔ پاکدامنی، سچائی، امانت داری، نگاہ کی حفاظت، قناعت، عدل اور حرام سے بچنا ایسی ہدایات نہیں ہیں جو زندگی کو روکتی ہیں بلکہ یہ وہ اصول ہیں جو اسے اندر سے ٹوٹنے اور برباد ہونے سے بچاتے ہیں۔
اے اللہ! ہمیں ایسی بصیرت عطا فرما کہ ہم دیکھ سکیں کہ تیرے احکام ہی زندگی ہیں اور تیری منع کردہ چیزیں رحمت ہیں اور یہ کہ اسباب کے پیچھے تجھ سے دور ہو کر کی جانے والی ہر کوشش اگرچہ ابتدا میں کامیابی کی صورت میں ہو دراصل زوال ہے۔ اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جو جب تیرے حکم کو سنیں تو اطاعت کریں، جب لغزش کریں تو توبہ کریں اور جب دنیا کے فتنوں میں مبتلا ہوں تو تیرا یہ قول یاد کریں:﴿ وَاللَّهُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ﴾ (طه: 73) اور اللہ سب سے بہتر اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا ہے۔