الشيخ مصطفى الهجري
یہ دور سماجی اور اخلاقی تبدیلیوں کی ایک ایسی شدید لہر سے گزر رہا ہے جو انسانی فطری شناخت کی بنیادوں کوہی متزلزل کر رہی ہے۔ اگرچہ جدید مغربی فکر ان تبدیلیوں کو ’’آزادی‘‘ اور ’’سلوکی ارتقاء‘‘ کی معراج قرار دیتی ہے، لیکن قرآنِ کریم ایک نہایت واضح اور عمیق تفہیمی زاویہ پیش کرتا ہے جو اس پورے منظرنامے کے غیبی اور مادی پس منظرمیں تجزیہ و تحلیل کرتا ہے۔آج دنیا جس صورتِ حال کا مشاہدہ کر رہی ہے، وہ کسی فطری ارتقاء کا نتیجہ نہیں، بلکہ ابلیس کی اس تدریجی حکمتِ عملی کا عملی اظہار ہے جس کا اس نے ازل ہی سے انسانیت کے خلاف اعلان کر رکھا ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا﴾ اور میں تیرے بندوں میں سے ایک مقررہ حصہ ضرور لے لوں گا۔ (النساء: 118) یہ ’’مقررہ حصہ‘‘ اچانک اور اتفاقا اسے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ ایک تدریجی اور منظم حکمتِ عملی کے ذریعے انسان کو اس کی فطرت سے دور کیا جاتا ہے۔ یہی ابلیسی منصوبہ آج کے مغربی معاشروں کے اخلاقی انحطاط میں پوری وضاحت کے ساتھ جلوہ گر ہے۔
انسان کے سقوط کی چار مرحلہ وار ابلیسی حکمتِ عملی:
قرآنِ کریم، ابلیس کے تخریبی منصوبے کو چار بنیادی اور تدریجی مراحل میں بیان کرتا ہے۔ یہ مراحل عصرِ حاضر کے مغربی معاشروں کی اخلاقی صورتِ حال کی نہایت دقیق عکاسی کرتے ہیں۔ چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے:
﴿وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ آذَانَ الْأَنْعَامِ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ ۚ وَمَنْ يَتَّخِذِ الشَّيْطَانَ وَلِيًّا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِينًا﴾ اور میں انہیں ضرور گمراہ کروں گا، اور انہیں آرزوؤں میں مبتلا رکھوں گا، اور انہیں حکم دوں گا تو وہ جانوروں کے کان چیر ڈالیں گے، اور انہیں حکم دوں گا تو وہ اللہ کی خلقت کو بدل ڈالیں گے، اور جو اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا کارساز بنائے تو وہ کھلے ہوئے خسارے میں جا پڑا۔(النساء: 119)
گمراہی کا پہلا مرحلہ
﴿وَلَأُضِلَّنَّهُمْ﴾ ابتداء انسان کو صراطِ مستقیم سے ہٹانے سے ہوتی ہے۔
عربی زبان میں ضلال کا معنی ہے راستہ کھو دینا اور بھٹک جانا۔ یعنی انسان اپنی فطری اور درست راہ پر گامزن ہوتا ہے، پھر شیطان اسے اس کے اصل راستے سے منحرف کر دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ کسی ثابت اخلاقی معیار اور واضح فکری مرجع سے محروم ہو جاتا ہے۔ بعینہٖ یہی کچھ مغربی جدیدیت نے کیا کہ اس نے زندگی کو دین اور وحی سے جدا کر دیا، اور انسان کو ایک ایسی فکری و اخلاقی بے راہ روی میں دھکیل دیا جہاں کوئی اخلاقی والہامی معیار باقی نہ رہا۔ جب انسان خدا کی ہدایت سے کٹ جاتا ہے تو اس کے پاس خیر و شر کو پرکھنے کا مستقل پیمانہ باقی نہیں رہتا؛ پھر حق محض اکثریت کی رائے، سماجی رجحان یا شخصی خواہش کا تابع بن جاتا ہے۔ یہی ابلیسی منصوبے کا پہلا اور بنیادی قدم ہے کہ انسان کو اس کی فطرتی سمت سے ہٹا دینا تاکہ آگے کے تمام مراحل آسان ہو جائیں۔
دوم: جھوٹی آرزوؤں اور متبادل تمناؤں کا مرحلہ
﴿وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ﴾ جب انسان اپنی اصل غایت، یعنی رضائے الٰہی، سے منحرف ہو جاتا ہے تو فطری طور پر اسے کسی متبادل مقصد کی تلاش ہوتی ہے جس کی طرف وہ متوجہ ہو اور جس میں اپنی معنوی خلا کو بھرنے کی کوشش کرے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں شیطان انسان کے لیے جھوٹی امیدیں، فریب آمیز خواب اور مصنوعی تمنائیں تراشتا ہے۔عصرِ حاضر کے مغربی ماڈل میں یہ متبادل تمنائیں ان دلکش نعروں کی صورت میں سامنے آئیں جنہیں مطلق نجات دہندہ بنا کر پیش کیا گیا۔ جیسے مطلق آزادی، فردیتِ مطلقہ اور مادی روشن خیالی۔
بلاشبہ علم و عقل انسان کے لیے عظیم نعمتیں ہیں، لیکن جب یہ وحی اور اخلاقی ہدایت سے کٹ جائیں تو انسان کو متوازن انسانیت عطا نہیں کر سکتیں۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے۔ مثلاً سوویت یونین سائنسی ترقی کی بلند ترین منزلوں تک پہنچا، خلائی تسخیر میں کامیاب ہوا، مادی قوت حاصل کی؛ مگر چونکہ اس کے پاس روحانی و اخلاقی مرکزیت نہ تھی، اس لیے وہ فکری اور اخلاقی سطح پر اندر سے کھوکھلا ہو کر بکھر گیا۔ آج یہی حقیقت مغربی دنیا میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ وہ نعرے جو کبھی انسانی عظمت اور فکری آزادی کے عنوان سے پیش کیے گئے تھے، اب خود شدید بحران کا شکار ہیں۔ یہاں تک کہ بعض معاشروں میں بچوں کی معصومیت کو نظریاتی تجربہ گاہ بنا دینا اور ان کی فطری شناخت بدلنے کو ”حق“ اور ’’آزادی‘‘ کے نام پر جائز قرار دینا انہی کھوکھلی تمناؤں کے دیوالیہ پن کی واضح علامت ہے۔یہی وہ مرحلہ ہے جہاں انسان حقیقت سے کٹ کر سراب کو حقیقت سمجھنے لگتا ہے، اور یہی ابلیس کی دوسری کامیابی ہے۔
سوم: حکم اور مکمل تسلط کا مرحلہ
﴿وَلَآمُرَنَّهُمْ﴾ یہاں شیطانی خطاب نرم وسوسے اور خوش نما ترغیب کے مرحلے سے نکل کر براہِ راست حکم اور کنٹرول کے مرحلے میں داخل ہو جاتا ہے۔ ’’امر‘‘ ہمیشہ بالا تر سے ادنیٰ کی طرف صادر ہوتا ہے، اور اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اس مرحلے تک پہنچ کر انسان اپنی فکری آزادی کھو بیٹھتا ہے اور مکمل تابع داری کی حالت میں داخل ہو جاتا ہے۔ اسی لیے قرآن یہاں صرف وسوسہ کا لفظ استعمال نہیں کرتا بلکہ استحواذ یعنی مکمل غلبے اور قبضے کی تعبیر اختیار کرتا ہے: ﴿اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَأَنسَاهُمْ ذِكْرَ اللَّهِ﴾ شیطان نے ان پر پورا غلبہ پا لیا، پھر انہیں اللہ کی یاد بھلا دی۔ (المجادلة: 19)
یہ وہ مقام ہے جہاں انسان صرف گمراہ نہیں رہتا بلکہ اس کی فکری و روحانی خودمختاری سلب ہو جاتی ہے۔ اب وہ خود فیصلہ نہیں کرتا بلکہ ایک ایسی قوت کے احکام پر چلتا ہے جس نے اس کے شعور کو اپنے قبضے میں لے لیا ہوتا ہے۔ اسی حقیقت کی طرف قرآن ایک اور مقام پر یوں متوجہ کرتا ہے: ﴿أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ﴾ اے اولادِ آدم! کیا میں نے تم سے عہد نہ لیا تھا کہ شیطان کی بندگی نہ کرنا؟ (یس: 60)
یہاں عبادت سے مراد صرف رکوع و سجود نہیں، بلکہ کامل اطاعت، غیر مشروط فرمانبرداری اور فکری سپردگی ہے۔ عصرِ حاضر میں یہ بندگی ایک نئے قالب میں ظاہر ہوتی ہے کہ ایسی عالمی مادی تہذیبی ساخت کی صورت میں جو قانون، میڈیا، تعلیمی نظام اور سماجی دباؤ کے ذریعے انسان پر اپنی اقدار مسلط کرتی ہے۔ یہ مرحلہ اس وقت مکمل ہوتا ہے جب باطل صرف ایک رائے نہیں رہتا بلکہ قانونی جبر، سماجی دباؤ اور تہذیبی استبداد کی شکل اختیار کر لیتا ہے؛ یہاں تک کہ رذیلت کو قبول کرنا ترقی اور اس سے انکار پسماندگی قرار پاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان حقیقتاً شیطان کا ’’عبد‘‘ بن جاتا ہے۔ بظاہر آزاد، مگر درحقیقت ایک غیر مرئی نظام کا غلام۔
چوتھا مرحلہ: اللہ کی تخلیق میں تبدیلی
﴿فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ﴾
یہ ابلیسی منصوبے کا سب سے تباہ کن اور آخری مرحلہ ہے، جو اپنے انتہائی نمایاں اظہار کے ساتھ عصرِ حاضر میں سامنے آ رہا ہے۔ قرآنِ مجید انسان کی فطری تخلیق کو واضح کرتا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ﴾ اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے۔ (الحجرات: 13) یہ آیت انسانی فطرت کے بنیادی دو قطبی نظام کو واضح کرتی ہے۔ اس کے باوجود جدید دنیا میں بعض نظریات اور سائنسی و سماجی رجحانات اس فطری تقسیم کو غیر واضح یا تبدیل کرنے کی کوششوں سے تعبیر کیے جاتے ہیں۔ان کوششوں میں بعض اوقات جسمانی اور نفسیاتی سطح پر شناخت کے بدلاؤ، ہارمونل مداخلت، اور جراحی طریقہ کار کے ذریعے جسمانی ساخت میں تبدیلی جیسے معاملات شامل ہوتے ہیں۔ اسی طرح بعض جدید نظریاتی رجحانات انسانی شناخت کو محض “سماجی تعمیر” قرار دے کر فطری بنیادوں سے الگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ رجحانات قرآن کی اس تعبیر کے تحت پیش کیے گئے تصور ”تغییر خلق اللہ“ کے دائرے میں زیرِ بحث لائے جاتے ہیں۔ قدیم مفسرین نے اس آیت کی وضاحت اپنے دور کے معروف عملی مظاہر کے مطابق کی، جیسے جسمانی فطرت میں ظاہری تبدیلیاں، کیونکہ ان کے زمانے میں انسانی شناخت کے اس درجے کی پیچیدگی اور وسعت بطور اجتماعی سماجی حقیقت موجود نہیں تھی جس کا آج مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ اس لیے بعض جدید اہلِ فکر کے نزدیک یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ’’تغییر خلق اللہ‘‘ کے مفہوم میں صرف ظاہری جسمانی تبدیلی شامل ہے یا وہ فکری، نفسیاتی اور شناختی تبدیلیاں بھی جو انسان کو اس کی فطری ساخت سے دور کر دیں۔ اسی پس منظر میں یہ مرحلہ اس پورے سلسلے کا نقطۂ انتہا سمجھا جاتا ہے، جہاں انسان صرف اپنے راستے یا اپنی خواہش نہیں بدلتا بلکہ اپنی فطری شناخت کے بنیادی تصور ہی پر سوالیہ نشان لگا دیتا ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ شناخت، جنس اور وجود کے سوالات اتنی شدت کے ساتھ ابھرتے ہیں کہ وہ صرف انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی اور تہذیبی بحث کی شکل اختیار کر لیتے ہیں ۔قرآنِ کریم انسانی نفسیات، سماج اور روحانی کیفیت کے مطابق شیطانی وسائل اور مراحل کو نہایت دقیق انداز میں بیان کرتا ہے۔ یہ وسائل ہر فرد کی ایمانی حالت اور اس کے انحراف کے درجے کے مطابق مختلف صورتیں اختیار کرتے ہیں۔
1. نزغ کی حکمتِ عملی
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿فَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ﴾ (الأعراف: 200)
یہاں نزغ سے مراد شیطانی اثر کا ابتدائی، باریک اور فوری جھٹکا ہے۔ یعنی ایک ہلکی سی ترغیب یا لمحاتی وسوسہ جو انسان کو گناہ کے جواز کی طرف دھکیلنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ مرحلہ خصوصاً اہلِ ایمان اور صالح افراد کے ساتھ مخصوص ہوتا ہے، کیونکہ ان کے اندر ابھی ضمیر کی روشنی باقی ہوتی ہے۔ اس لیے شیطان براہِ راست غلبہ نہیں کرتا بلکہ ایک “فکری چنگاری” کے ذریعے راستہ بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔
2. وسوسہ اور استحواذ کا مرحلہ
اگر انسان اس ابتدائی نزغ کو قبول کر لے اور اس کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائے تو شیطانی عمل ایک گہری اور مستقل کیفیت اختیار کر لیتا ہے، جسے وسوسہ کہا جاتا ہے۔ وسوسہ محض ایک خیال نہیں رہتا بلکہ مسلسل فکری دباؤ اور داخلی تکرار کی صورت اختیار کر لیتا ہے، جو رفتہ رفتہ انسان کے فیصلوں، رجحانات اور رویّوں کو متاثر کرتا ہے۔ اسی تسلسل میں جب انسان مکمل طور پر اس فکری نظام کا حصہ بن جاتا ہے تو قرآن اسے استحواذ سے تعبیر کرتا ہے: ﴿اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ﴾ (المجادلة: 19) یعنی شیطان اس پر غالب آ جاتا ہے، اور اس کی یادِ الٰہی اور فطری شعور کمزور یا معطل ہو جاتا ہے۔
قرآنِ کریم نہ صرف روحانی ہدایت فراہم کرتا ہے بلکہ انسانی نفسیات، سماجی تبدیلیوں اور فکری انحرافات کے لیے ایک نہایت جامع تجزیاتی فریم ورک بھی پیش کرتا ہے۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو کسی بھی تہذیب کا اخلاقی انحطاط محض تاریخی یا مادی حادثہ نہیں ہوتا بلکہ قرآن کے بیان کردہ تدریجی شیطانی مراحل کے مطابق ایک منظم نفسیاتی و فکری عمل ہوتا ہے۔ اسی لیے قرآن انسان کو بار بار یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ اصل نجات کسی بیرونی نظام میں نہیں بلکہ وحی الٰہی سے وابستگی اور فطرتِ سلیمہ کی حفاظت میں ہے۔ کیونکہ جب انسان اس مرکز سے ہٹتا ہے تو وہ مختلف درجوں میں فکری، اخلاقی اور تہذیبی انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔