الشيخ مصطفى الهجري
عصرِ حاضر کے عربی خطابات اور تحریروں میں" نحن أمة اقرأ" یعنی(ہم پڑھنے والی امت ہیں)کی تعبیر علمی و فکری بیداری کےلئے کثرت سے استعمال ہونے والی اصطلاح بن چکی ہے۔اور اس کا استعمال اس قدر کثرت سے ہوا کہ لفظ ’’اقرأ‘‘ کو اس کے قرآنی اور الٰہی سیاق سے ہی الگ کر دیا گیا اور اسے صرف ایک مادی عمل یعنی جدید مفہوم میں پڑھنے تک محدود سمجھ لیا گیا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم صرف ایک ایسی امت نہیں ہیں جوصرف پڑھتی ہے وہ تو دوسری قومیں بھی پڑھتی ہیں بلکہ بعض قومیں ہم سے زیادہ کتابیں اور تحقیقی مواد پڑھتی ہیں لیکن اصل امتیاز اور بنیادی فرق قرآنِ مجید کی اگلی آیت میں بیان ہوا ہے،ارشاد باری تعالی ہوتا ہے: (اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ) (اے رسول) پڑھیے! اپنے رب کے نام سے جس نے خلق کیا۔ (سورة العلق: الآية 1 )
اس بنا پر ہماری شناخت محض "پڑھنے والی امت" کی نہیں، بلکہ "الہی قراءت کی امت" کی ہے۔ ایسی قراءت اورمطالعہ جو مخلوق کو خالق سے جوڑتی ہے، علم کو ایمان سے وابستہ کرتی ہے، اور انسانی رویّوں نیز کائناتی مظاہر کو اُس ذات سے جدا کرکے نہیں دیکھتی جس نے اس پوری کائنات کو پیدا کیا، اسے وجود بخشا اور مسلسل اس کے نظام کی تدبیر فرما رہی ہے۔
جدید دور کے فکری دباؤ نے قرآن کے معانی پر مادّی تعبیرات مسلط کر دی ہیں جس کے نتیجے میں قرآنی نصوص کو ان کے اصل روحانی اور غیبی پس منظر سے کاٹ دیا گیا ہے۔ پڑھنے کے عمل کو ’’باسمِ ربک‘‘ کی قید اور نسبت سے جدا کر کے اس کی غیر معمولی اہمیت بیان کرنا دراصل اسی فکری تقسیم کی ایک شکل ہے، جس میں قرآن کو ایک مربوط اور ہم آہنگ کلام کی بجائے ٹکڑوں میں تقسیم کر کے سمجھا جاتا ہے۔
محض مادی اور صرف مطالعہ انسانی رویّے کو درست سمت دینے کے لیے کافی نہیں ہوتا بلکہ کائناتی، سماجی اور نفسیاتی مظاہر کا مطالعہ دراصل وحی کی گہری تفہیم کا تسلسل ہونا چاہیے۔ اور جب انسانی رویّہ اپنے خالق کی رہنمائی سے کٹ جاتا ہے تو انسان اخلاقی اور فکری گمراہی میں بھٹک جاتا ہے اور یہی وہ بات ہے جس سے قرآنِ کریم نے یوں خبردار کیا ہے: (وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنْسَاهُمْ أَنْفُسَهُمْ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ)(سورة الحشر: الآية 19) اور ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انہیں خود فراموشی میں مبتلا کر دیا، یہی لوگ فاسق ہیں۔
اسی نوعیت کی یاد دہانی حضرت علی بن ابی طالبؑ کی اپنے فرزند امام حسنؑ کو وصیت میں بھی ملتی ہے، جب آپؑ نے فرمایا: (وَاعْلَمْ يَا بُنَيَّ أَنَّهُ لَوْ كَانَ لِرَبِّكَ شَرِيكٌ لَأَتَتْكَ رُسُلُهُ، وَلَرَأَيْتَ آثَارَ مُلْكِهِ وَسُلْطَانِهِ... وَلَكِنَّهُ إِلَهٌ وَاحِدٌ كَمَا وَصَفَ نَفْسَهُ( نهج البلاغة، الرسالة 31)
اے میرے بیٹے! جان لو کہ اگر تمہارے رب کے ساتھ کوئی اور خدا ہوتا تو اس کے بھی رسول تمہارے پاس آتے،اور تم اس کی حکومت و سلطنت کے آثار بھی ضرور دیکھتے لیکن وہ ایک ہی معبود ہے جیسا کہ اس نے خود اپنی ذات کی صفت بیان فرمائی ہے۔پس توحید اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ انسان کا پورا طرزِ عمل اسی ایک الٰہی سرچشمے سے مکمل طور پر جڑا ہوا اور اسی کے مطابق مرتب ہو۔
انسانی نظریات کے مقابل قرآنی تفسیری نمونے
جب مسلمان کے پاس الٰہی فہمِ مطالعہ (قرأتِ ربانی) کا شعور ہوتا ہے تو وہ انسانی معاشرے کی حرکات اور اس کے رجحانات کو ایک جامع توحیدی نظر سے سمجھتا اور بیان کرتا ہے نہ کہ محدود اور تنگ نظری والے مغربی فکری سانچوں کے ذریعے مطالعہ کرتا ہے۔ مادی مقابلہ بازی کا مظہر: طبقاتی کشمکش اور معاشی دوڑ کو سرمایہ دارانہ یا مارکسی فکری ماڈل کے ذریعے سمجھنے کی بجائے، مسلمان اسے سورۂ تکاثر کے تفسیری زاویے سے دیکھتا اور سمجھتا ہے: (أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ ﴿۱﴾ حَتَّىٰ زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ﴿۲﴾(سورة التكاثر: 1-2)ایک دوسرے پر فخر نے تمہیں غافل کر دیا ہے، ۲۔ یہاں تک کہ تم قبروں کے پاس تک جا پہنچے ہو۔یہ عظیم سورت صرف ایک اخلاقی مسئلے کی نشان دہی نہیں کرتی بلکہ ایک مکمل فکری و عملی حل بھی پیش کرتی ہے، جس کا مرکز آخرت کا شعور اور الٰہی ذمہ داری کا احساس بیدار کرنا ہے۔
نفاق اور سماجی رویّوں کا مظہر: مؤمن انسانی رویّوں میں ظاہر ہونے والے رنگ بدلنے اور دوغلے پن کو سمجھنے کے لیے عام سیاسی تجزیوں یا محض مادّی فکری تشریحات پر انحصار نہیں کرتابلکہ وہ وحی کی اس رہنمائی کی طرف رجوع کرتا ہے جو منافقین کے نفسیاتی اور عملی رویّوں کو واضح کرتی ہے جیسا کہ قرآنِ کریم میں تفصیل سے بیان ہوا ہے اور اسی فہم کو ائمہؑ نے بھی مزید دقت عطا کی ہے؛ چنانچہ امام محمد باقرؑ سے منقول ہے کہ انہوں نے اس اضطرابی اور متذبذب رویّے کی یوں وضاحت فرمائی (بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ يَكُونُ ذَا وَجْهَيْنِ وَذَا لِسَانَيْنِ، يُطْرِي أَخَاهُ شَاهِداً وَيَأْكُلُهُ غَائِبِاً) بہت برا بندہ وہ ہے جو دو چہرے اور دو زبانیں رکھتا ہو؛ وہ اپنے بھائی کی موجودگی میں اس کی تعریف کرتا ہے اور اس کی غیر موجودگی میں اس کی غیبت اور برائی کرتا ہے۔ (المصدر: شیخ کلینی، الکافی، جلد 2، صفحہ 343)
مخلوق اور ہدایت کے درمیان مضبوط تعلق ہی بندگی کی اصل روح ہے۔ جس ہستی نے اس کائنات کو پیدا کیا اور انسانی نفس کو اس کی صورت عطا کی، وہی سب سے بہتر جانتی ہے کہ اس کے رویّے کی اصلاح کس چیز میں ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی زبان سے بیان ہوا ہے: (الَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهْدِينِ) سورة الشعراء: الآية 78 جس نے مجھے پیدا کیا پھر وہی مجھے ہدایت دیتا ہے۔ انسان اور رب کے درمیان اس دائمی تعلق کی تاکید کرتے ہوئے امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں: (مَنْ عَرَفَ اللَّهَ خَافَ اللَّهَ، وَمَنْ خَافَ اللَّهَ سَخَتْ نَفْسُهُ عَنِ الدُّنْيَا) جو اللہ کو پہچان لے وہ اللہ سے ڈرتا ہے اور جو اللہ سے ڈرنے لگے تو اس کا دل دنیا سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ (المصدر: شیخ کلینی، الکافی، جلد 2، صفحہ 68)یہ الٰہی فہم پر مبنی معرفت ہی وہ چیز ہے جو انسانی رویّے کو محض مادّی اور مفاد پرستانہ، باہمی ٹکراؤ والے انداز سے نکال کر ایک متوازن طرزِ عمل میں بدل دیتی ہے، جو زمین کی تعمیر بھی کرتا ہے اور آسمان کی طرف بھی نگاہ رکھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے طرزِ عمل کو جوڑنے کی ضرورت کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس کائنات میں کسی چیز کو اللہ کی مشیت سے آزاد اور مستقل مؤثر نہ سمجھیں۔ ’’اقرأ باسم ربک‘‘ کے مفہوم کی طرف واپسی امتِ مسلمہ کے لیے نجات کی رسی ہے، جس کے ذریعے وہ اپنا کھویا ہوا شعور دوبارہ حاصل کر سکتی ہے اور فکری غلامی سے نجات پا سکتی ہے تاکہ وہ کائنات اور زندگی کو وحی کے جامع اور مکمل نقطۂ نظر سے سمجھے اور ایک ایسا انسانی اور اخلاقی نظام تشکیل دے جو زمین کی تعمیر اور ربّ العالمین کی رضا دونوں کو یکجا کرے۔