واپس
تباہی سے پہلے بچاؤ : دین میں احتیاط کی روش

تباہی سے پہلے بچاؤ : دین میں احتیاط کی روش

قرآنِ کریم کی نہایت باریک اور حکیمانہ انداز ہدایات میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف گناہ سے منع کرنے پر اکتفا نہیں کرتا، بلکہ بعض اوقات انسان کو گناہ کے قریب جانے سے بھی روکتا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ مومن ہمیشہ محفوظ دائرے میں زندگی گزارے، نہ کہ تباہی کے دھانے۔

الشيخ مصطفى الهجري

قرآنِ کریم کی نہایت باریک اور حکیمانہ انداز ہدایات میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف گناہ سے منع کرنے پر اکتفا نہیں کرتا، بلکہ بعض اوقات انسان کو گناہ کے قریب جانے سے بھی روکتا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ مومن ہمیشہ محفوظ دائرے میں زندگی گزارے، نہ کہ تباہی کے دھانے۔ یہ حقیقت حضرت آدمؑ کے واقعے میں پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ) اور اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ تم دونوں زیادتی کا ارتکاب کرنے والوں میں سے ہو جاؤ گے۔ (البقرۃ: 35)

اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ صرف اس درخت کا پھل نہ کھاؤ، بلکہ فرمایا: اس کے قریب بھی نہ جانا۔یہ اندازِ بیان انسان کی تربیت کے لیے ایک عظیم الٰہی اصول کو آشکار کرتا ہے۔ گناہ سے حفاظت صرف اس کے ارتکاب کو چھوڑنے سے نہیں، بلکہ اس کے اسباب، اس کی مقدمات، اور ان ماحول و مواقع سے بھی دور رہنے میں ہے جہاں ارادہ کمزور پڑ جاتا ہے اور وسوسے کے سامنے جھکنے لگتا ہے۔ یہی دین میں احتیاط کی روش ہے؛ یعنی انسان اپنے اور گناہ کے درمیان ایک حفاظتی فاصلہ قائم رکھے، تاکہ اگر نفس میں لغزش پیدا بھی ہو تو وہ فوراً گناہ کی گہرائی میں نہ جا گرے۔دانائی اسی میں ہے کہ مومن صرف سقوط کے بعد نجات کی راہ نہ ڈھونڈے، بلکہ سقوط سے پہلے ہی اس کے راستے اپنے اوپر بند کر دے۔ یہی حقیقی تقویٰ ہے، اور یہی روحانی سلامتی کی ضمانت ہے۔

کیونکہ معصیت کے قریب جانا کوئی بے خطر کام نہیں ہے، اس لیے کہ انسانی نفس ہمیشہ مضبوط اور ثابت قدم نہیں رہتا، بلکہ وہ ماحول اور حالات سے اثر قبول کرتا ہے اور رفتہ رفتہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ شیطان بھی عموماً انسان کو یک دم گناہ کے دلدل میں نہیں پھنساتا، بلکہ پہلے اسے ایک چھوٹا قدم خوبصورت بنا کر دکھاتا ہے، پھر دوسرا، پھر تیسرا؛ یہاں تک کہ انسان خود کو اُس گناہ کے عین درمیان پاتا ہے جسے وہ کبھی اپنے آپ سے بہت دور سمجھتا تھا۔ اسی لیے قرآنِ کریم نے متعدد مقامات پر اسی سنتِ الٰہی کو تاکید کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا﴾ اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، یقینا یہ بڑی بے حیائی ہے اور بہت برا راستہ ہے۔ (الإسراء: 32) یعنی صرف زنا سے منع نہیں کیا، بلکہ اس کے قریب جانے سے بھی روکا؛ یعنی اُن تمام اسباب، راستوں اور مقدمات سے دور رہنے کا حکم دیا جو انسان کو اس گناہ تک پہنچا سکتے ہیں۔ اسی طرح فرمایا: ﴿تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَقْرَبُوهَا﴾  یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں، ان کے قریب نہ جاؤ، (البقرۃ: 187)

یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں، پس ان کے قریب نہ جاؤ۔ کیونکہ جو شخص حدود کے کنارے رہنے کا عادی ہو جائے، اس کے بارے میں اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ کسی وقت ان حدود کو پار کر بیٹھے۔ پس حکمت اسی میں ہے کہ انسان اپنے اور گناہ کے درمیان ایسا محفوظ فاصلہ قائم رکھے جو اسے لغزش کے وقت سہارا دے اور اسے سقوط سے بچا لے۔ یہیں سے دین میں احتیاط کی حقیقی قدر واضح ہوتی ہے۔ احتیاط کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنے اوپر بے جا سختی کرے، بلکہ اس کا مقصد اپنی روح اور ایمان کی حفاظت کرنا ہے۔احتیاط یہ ہے کہ مومن اپنی بشری کمزوری کو پہچانے؛ اپنے دل کو آزمائش کے حوالے نہ کرے، اپنے دین کو خطرے میں نہ ڈالے، اور نفس کے دھوکے میں آکر یہ نہ کہے کہ میں خود پر مکمل قابو رکھتا ہوں۔ اسی معنی کی نہایت خوبصورت تعبیر امیر المؤمنین حضرت علیؑ کے اس ارشاد میں ملتی ہے کہ آپؑ نے کمیل سے فرمایا (أخوك دينك، فاحتط لدينك بما شئت)تمہارا حقیقی بھائی تمہارا دین ہے، پس اپنے دین کی حفاظت کے لیے جس قدر احتیاط کرسکتے ہو، کرو۔کیونکہ دین کوئی ایسی ثانوی چیز نہیں کہ اگر ٹوٹ جائے تو آسانی سے اس کا بدل مل جائے؛ بلکہ یہ انسان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے، اس کی روح کی زندگی اور اس کی ابدی نجات کا وسیلہ ہے۔

اسی لیے حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے اور گمراہی کے اسباب کے درمیان ایک ایسا محفوظ فاصلہ قائم رکھے جو اسے لغزش سے بچائے اور اس کے ایمان کو سلامت رکھے۔ جو شخص اپنے دین کی حفاظت کے لیےحتیاطی حدود  قائم کرتا ہے، درحقیقت وہ اپنے مستقبل، اپنی آخرت اور اپنے حقیقی وجود کی حفاظت کرتا ہے۔ یہی بصیرت ہے، یہی تقویٰ ہے، اور یہی سقوط سے پہلے نجات کا راستہ ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حقیقت کو نہایت بلیغ انداز میں واضح فرمایا ہے۔حدیث میں ہے: (إن لكل ملك حمى، وحمى الله محارمه، فمن رتع حول الحمى أوشك أن يقع فيه) ہر بادشاہ کی ایک محفوظ چراگاہ ہوتی ہے، اور اللہ کی محفوظ حدود اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔ پس جو شخص ان حدود کے اردگرد منڈلاتا رہے، قریب ہے کہ وہ انہی میں جا پڑے۔ یہ نہایت حسین اور گہری مثال ہے۔ جس طرح ایک چرواہا اگر اپنی بھیڑوں کو ممنوعہ چراگاہ کے قریب چرائے تو اسے یہ اطمینان نہیں ہوسکتا کہ کوئی بھیڑ اچانک حد پار نہ کر جائے، اسی طرح انسان بھی اگر اپنے دل اور اپنے اعضا کو شبہات اور معصیت کے ماحول کے گرد گردش کراتا رہے تو بعید نہیں کہ کسی لمحے وہ حرام میں جا گرے۔

اسی بنا پر بعض روایات میں فرمایا گیا:(فدعوا المشتبهات) پس مشتبہ امور کو چھوڑ دو۔ کیونکہ جو شخص مشتبہ چیزوں میں تساہل اختیار کرتا ہے، وہ آہستہ آہستہ حرام کی طرف بڑھنے لگتا ہے؛ اور جو صغیرہ گناہوں کو معمولی سمجھنے لگے، اس کے لیے کبیرہ گناہ بھی آسان ہو جاتے ہیں۔ گناہ کی دنیا میں سقوط اکثر اچانک نہیں ہوتا؛ یہ چھوٹی بے احتیاطیوں سے شروع ہوتا ہے، پھر رفتہ رفتہ عادت بنتا ہے، اور آخرکار انسان ایسی جگہ پہنچ جاتا ہے جہاں سے واپسی دشوار محسوس ہونے لگتی ہے۔ اسی لیے شریعت انسان کو صرف گناہ سے نہیں بچاتی، بلکہ ان راستوں سے بھی روکتی ہے جو گناہ تک لے جاتے ہیں۔ یہی احتیاط دراصل ایمان کی نگہبانی ہے، اور یہی وہ حکمت ہے جو انسان کو گرنے سے پہلے سنبھال لیتی ہے۔

اسی حقیقت کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک جامع وصیت میں یوں بیان فرمایا: (دع ما يريبك إلى ما لا يريبك) جو چیز تمہارے دل میں کھٹک پیدا کرے اسے چھوڑ کر اُس چیز کی طرف آ جاؤ جس میں کوئی شبہ نہ ہو۔ یہ قلبی سلامتی پیدا کرنے کا ایک عظیم اصول ہے۔ مومن سے صرف یہ مطالبہ نہیں کہ وہ ہر معاملے میں صرف یہ پوچھے کہ یہ حلال ہے یا حرام؟ بلکہ اسے یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کیا اس کام میں کوئی باطنی کھٹک ہے؟ کیا یہ میرے اندر اضطراب پیدا کرتا ہے؟ کیا یہ میرے نفس کے کسی تاریک دروازے کو کھولتا ہے؟ اگر ایسا ہو تو اسے چھوڑ دینا زیادہ بہتر اور زیادہ محفوظ ہے۔ یہی مفہوم امام رضاؑ کی اس روایت سے بھی ہم آہنگ ہے جو آپؑ نے اپنے آباء کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل فرمائی کہ آپؐ نے وابصہ سے فرمایا: (البر ما اطمأنت إليه النفس، واطمأن به الصدر، والإثم ما تردد في الصدر، وجال في القلب، وإن أفتاك الناس وأفتوك)

نیکی وہ ہے جس پر نفس مطمئن ہو اور سینہ اس سے سکون پائے، جبکہ گناہ وہ ہے جو سینے میں کھٹکے اور دل میں گردش کرتا رہے، اگرچہ لوگ تمہیں اس کے جائز ہونے کا فتویٰ دیتے رہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر خواہشات انسان کی فطرت کو دھندلا نہ دیں تو اس کے اندر ایک نور موجود ہوتا ہے، جو اسے خطرے کی سمت کا احساس دلاتا رہتا ہے۔وہ نور انسان کو بتاتا ہے کہ کچھ راستے بظاہر کشادہ اور دلکش ہوتے ہیں، مگر ان کی انتہا تاریکی ہے؛ اور کچھ روحانی حدود ایسی ہیں جن کے قریب جانا بھی سلامتی کے خلاف ہے۔پس مومن کی بصیرت یہی ہے کہ وہ دل کی اس پاک آواز کو پہچانے، اس کی حفاظت کرے، اور اس سے پہلے کہ قدم پھسلے، خود کو روک لے۔

یہی احتیاط ہے، یہی تقویٰ ہے، اور یہی وہ حکمت ہے جو انسان کو سقوط سے پہلے نجات عطا کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اخلاقی سقوط اکثر کسی بڑے گناہ سے شروع نہیں ہوتا، بلکہ چھوٹی چھوٹی غفلتوں سے آغاز ہوتا ہے: ایک ایسی نظر جسے انسان عارضی سمجھ لیتا ہے، یا ایک ایسی مجلس جسے وہ بے ضرر خیال کرتا ہے، یا ایک ایسا لفظ جس کی وہ تاویل کر لیتا ہے، یا ایک ایسا تعلق جس کے بارے میں وہ گمان کرتا ہے کہ اس پر اس کا مکمل کنٹرول ہے، یا ایک ایسا مشتبہ مال جس کے بارے میں وہ کہتا ہے کہ ’’بعد میں دیکھ لوں گا‘‘۔ پھر آہستہ آہستہ وہ اس مقام تک پہنچ جاتا ہے کہ واپسی کی صلاحیت بھی کمزور پڑنے لگتی ہے۔اسی لیے احتیاط دراصل ایک عقلی اور روحانی عبادت ہے، کیونکہ یہ نفس کی کمزوری کے سامنے عاجزی، اللہ کے حکم کی عظمت کا اعتراف، اور انسانی نفسیات کے تدریجی انحراف کی سمجھ کا اظہار ہے۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے فرماتا ہے کہ ’’قریب نہ جاؤ‘‘ تو یہ تنگی نہیں بلکہ رحمت ہے۔ وہ دراصل انسان کے دل کو آلودگی سے پہلے محفوظ رکھنا چاہتا ہے، اس کی ارادے کی قوت کو کمزور ہونے سے بچانا چاہتا ہے، اور اس کی بصیرت کو بجھنے سے پہلے محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔اور اللہ کی رحمت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس نے نجات کے راستے کو پیچیدہ نہیں بنایا، بلکہ اسے آسان رکھا ہے: انسان کو بس اتنا کہا گیا ہے کہ وہ خطرے کے مقامات سے دور رہے، اور اپنے لیے طاعت اور پاکیزگی کا ایسا ماحول منتخب کرے جو اسے فتنوں سے محفوظ رکھے۔

پس مومن کے لیے مناسب ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اپنے اور گناہ کے درمیان  یہ محفوظ فاصلے قائم کرے۔ اپنی نظر میں، اپنے  سننے میں، اپنے تعلقات میں، اپنے مال میں، اپنی خلوتوں میں، اور اپنے روزمرہ کے انتخاب میں۔ عاقل وہ نہیں جو اپنی طاقت کو اس بات میں آزمائے کہ وہ کنارے پر کھڑا رہ سکتا ہے یا نہیں، بلکہ عاقل وہ ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ نجات کنارے سے دور رہنے میں ہے۔اسی طرح دین میں احتیاط کوئی منفی خوف نہیں، بلکہ ایک ایمانی حکمت اور شعوری بیداری ہے؛ یہ اس حقیقت کا ادراک ہے کہ اللہ کی چراگاہ اس کی مقرر کردہ حرام حدود ہیں، اور جو شخص خود کو اس چراگاہ سے دور رکھتا ہے، اللہ اس کے دل اور اس کے دین کی حفاظت فرماتا ہے۔

شیئر: