واپس
آزادی: قدر سے بحران تک

آزادی: قدر سے بحران تک

آزادی جب اقدار، اخلاق، اور مقصدیت سے جدا ہوجائے تو وہ رفتہ رفتہ بے سمتی اور انتشار میں تبدیل ہو جاتی ہے، اور جب اسے بلا جواز پابندیوں اور جبر کے تحت دبا دیا جائے تو وہ اپنی حقیقی روح کھو بیٹھتی ہے۔ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ایک ایسی متوازن فکر کی ضرورت ہے جو آزادی کو انسان کی تعمیر، اس کے شعور کی پختگی، اور اس کی اخلاقی تکمیل کا وسیلہ بنائے، نہ کہ اس کے داخلی انتشار اور گم گشتگی کا سبب۔

الشيخ معتصم السيد أحمد

عصرِ حاضر میں آزادی کا مسئلہ یہ نہیں کہ اسے ایک ناقابلِ قبول قدر سمجھا جاتا ہے یا وہ اختلاف و نزاع کا موضوع بنی ہوئی ہے، بلکہ اصل سوال اس اندازِ فہم اور طرزِ تعبیر سے متعلق ہے جس کے تحت آزادی کو سمجھا اور برتا گیا ہے۔ اسی طرزِ تعبیر نے آزادی کو، جو کبھی انسان کی رہائی اور جبر و استبداد سے نجات کا ایک عظیم اصول سمجھی جاتی تھی، رفتہ رفتہ ایک ایسے تصور میں بدل دیا ہے جو انسان کے اپنے وجود، اس کی شناخت، اور دنیا میں اس کے مقام و کردار کے بارے میں گہرے فکری اور وجودی سوالات کو جنم دیتا ہے۔چنانچہ آزادی جو کبھی ظلم، محکومی اور آمریت کے بحرانوں کا حل قرار دی جاتی تھی، جدید دور کی بعض صورتوں میں خود ایک نئے بحران کا سرچشمہ بن گئی ہے۔ یہ بحران معیارات کے زوال، فردی خواہش و ارادے کے بے مہار پھیلاؤ، اور اُس اخلاقی و فکری سمت کے فقدان سے عبارت ہے جو انسانی اختیار اور انتخاب کو توازن، معنویت اور صحیح رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

جدید فکر میں آزادی کا تصور ایک طویل تاریخی کشمکش کی پیداوار ہے، جو مذہبی اور سیاسی اقتدار کے خلاف برپا ہونے والی جدوجہد سے تشکیل پایا ۔ اسی تاریخی پس منظر نے آزادی کو ایک ایسے تصور کی صورت دی جس کا بنیادی مقصد انسان کو بیرونی جبر اور عائد کردہ پابندیوں سے نجات دلانا تھا۔ لیکن اگرچہ یہ تصور اپنے مخصوص تاریخی مرحلے میں ناگزیر تھا، تاہم حالات کی تبدیلی کے بعد اس پر مطلوبہ تنقیدی نظر نہیں ڈالی گئی۔ نتیجتاً آزادی کو اب بھی زیادہ تر "قیود کے خاتمے" کے معنی میں سمجھا جاتا ہے، نہ کہ "انسان کی تعمیر" کے مفہوم میں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پہلی بنیادی خرابی جنم لیتی ہے۔ یعنی جب آزادی کو معنی اور مقصد کے حصول کے بجائے محض ضابطوں کی نفی تک محدود کر دیا جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ انسان صرف یہ نہیں چاہتا کہ وہ جو چاہے کرگزرے، بلکہ وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ جو کچھ کرے اس کے لیے کوئی معنی اور مقصد بھی موجود ہو۔ اگر اسے اختیار تو دے دیا جائے لیکن ایسا معیار نہ دیا جائے جو اس کی رہنمائی کرسکے، تو آزادی ترقی کا ذریعہ بننے کے بجائے ایک بوجھ بن جاتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بہت سے ایسے معاشروں میں، جہاں فردی آزادیوں کا دائرہ بہت وسیع ہو چکا ہے، اضطراب، تنہائی اور گم گشتگی کے احساسات میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ گویا انسان قیود سے آزاد تو ہو گیا، لیکن اسے یہ معلوم نہ ہو سکا کہ اپنی آزادی کو کس رخ پر استعمال کرے۔

یہیں سے آزادی کے مسئلے کا ایک اور پہلو آشکار ہوتا ہے ۔ جب آزادی کو محض انسانی ارادے کی بے قید آزادی کے طور پر سمجھا جانے لگے، تو اس کے پس منظر میں یہ مفروضہ کارفرما ہوتا ہے کہ انسانی خواہش اور ارادہ بذاتِ خود حق و باطل کا معیار بن سکتے ہیں۔ حالانکہ انسان ہمیشہ مکمل شعور اور کامل بصیرت کی حالت میں نہیں ہوتا۔ اس کے بہت سے فیصلے خواہشات، ماحول کے اثرات یا وقتی نفسیاتی دباؤ کے تحت تشکیل پاتے ہیں، نہ کہ حقیقت اور خیر کی جستجو کے نتیجے میں۔

اس طرح جب آزادی کو آخری اور مطلق معیار بنا دیا جاتا ہے تو انسان ایک بند دائرے میں گردش کرنے لگتا ہے۔ وہ اپنی خواہشات کے مطابق انتخاب کرتا ہے، اس کی خواہشات ان عادات سے تشکیل پاتی ہیں جن کا وہ عادی ہو چکا ہوتا ہے، اور اس کی عادات اُن چیزوں سے جنم لیتی ہیں جو مسلسل اس کے سامنے پیش کی جاتی ہیں۔ یوں اس کی آزادی درحقیقت ایسے بیرونی عوامل کا تسلسل بن جاتی ہے جن کا اسے شعور بھی نہیں ہوتا۔ اس مرحلے پر اصل سوال یہ نہیں رہتا کہ کیا انسان آزاد ہے؟ بلکہ اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسان واقعی اس بات کا ادراک رکھتا ہے کہ وہ کیا انتخاب کر رہا ہے؟

دوسری جانب، جب فردی آزادی کو کسی اخلاقی، فکری یا سماجی ضابطے کے بغیر مطلق العنان چھوڑ دیا جائے، تو اجتماعی زندگی کے اندر ایک دائمی تناؤ جنم لینے لگتا ہے۔ چنانچہ معاشرہ محض الگ الگ افراد کا مجموعہ نہیں بلکہ باہمی تعلقات کا ایک مربوط نظام ہے، جو ہم آہنگی اور استحکام کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر ہر فرد صرف اپنی ذات کو معیار قرار دے لے اور کسی مشترک اخلاقی و سماجی فریم ورک کو تسلیم نہ کرے، تو معاشرتی یکجہتی رفتہ رفتہ کمزور پڑنے لگتی ہے، خواہ اس کے آثار فوری طور پر نمایاں نہ ہوں۔

یہیں سے آزادی کے تصور کا دوسرا بنیادی خلل سامنے آتا ہے: جب آزادی کو اس کے اجتماعی اور سماجی پہلوؤں سے الگ کر کے محض ایک ذاتی معاملہ سمجھ لیا جائے۔ حالانکہ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے نہ کبھی مکمل طور پر الگ تھلگ ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے اعمال صرف اس کی ذات تک محدود رہتے ہیں۔ وہ ہر لمحہ دوسروں پر اثر بھی ڈالتا ہے اور خود بھی اُن سے اثر قبول کرتا ہے۔

اسی بنا پر آزادی کا کوئی بھی استعمال، خواہ ابتدا میں کتنا ہی ذاتی اور محدود کیوں نہ دکھائی دے، لازماً اپنے گردوپیش میں اثرات پیدا کرتا ہے۔ یہ اثرات ابتدا میں اگرچہ غیر محسوس رہتے ہیں، مگر وقت کے ساتھ اجتماعی شعور، معاشرتی رویّوں، اخلاقی اقدار، اور انسانی تعلقات کی ساخت میں سرایت کرتے چلے جاتے ہیں۔ چنانچہ یہ کہنا کہ آزادی محض فرد کا ذاتی حق ہے اور اس کے نتائج صرف اسی کی ذات تک محدود رہتے ہیں،  نہایت سادہ اور گمراہ کن تعبیر ہے۔ کیونکہ انسان کی زندگی اپنی اصل میں باہمی تعلق، اثر پذیری، اور اجتماعی وابستگی کا ایک مسلسل عمل ہے، جہاں کسی ایک فرد کا طرزِ عمل بھی بتدریج پورے معاشرے کی فکری و اخلاقی فضا پر اثر ڈالنے لگتا ہے۔

تاہم اس خلل کا علاج ہرگز یہ نہیں کہ آزادی کو دوبارہ جبری پابندیوں اور سخت کنٹرول کے تابع کر دیا جائے، کیونکہ ایسی کوشش بالآخر ایک متضاد نتیجے پر منتج ہوتی ہے۔ جب اختیار محض بیرونی طاقت اور جبر کے ذریعے مسلط کیا جاتا ہے، تو اقتدار خود دباؤ اور گھٹن کا سرچشمہ بن جاتا ہے، اور آزادی اپنی حقیقی معنویت کھو بیٹھتی ہے۔

اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ آزادی کے تصور  پر غور کیا جائے؛ یہ سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ آخر وہ کون سی چیز ہے جو آزادی کو ایک حقیقی انسانی قدر بناتی ہے۔ کیونکہ آزادی اگر انسان کی فکری، اخلاقی اور وجودی تکمیل سے کٹ جائے، تو وہ رہائی کے بجائے انتشار پیدا کرنے لگتی ہے۔ لیکن اگر اسے انسانی ذمہ داری، شعور، اور خیر کے تصور کے ساتھ مربوط رکھا جائے، تو یہی آزادی انسان کی تعمیر، وقار، اور باطنی ارتقا کا وسیلہ بن جاتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ آزادی صرف اختیار کا نام نہیں، بلکہ شعور، فہم، اور ذمہ داری کے ساتھ درست انتخاب کرنے کا نام ہے۔ اسی لیے آزادی علم اور اقدار کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی، کیونکہ بغیر بصیرت کے کیا گیا انتخاب اکثر انسان کی حقیقی آزادی نہیں، بلکہ غیر محسوس اثرات اور خواہشات کا نتیجہ ہوتا ہے۔

لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ انسان پر عائد تمام قیود کو کیسے ختم کیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ ایسا انسان کیسے پروان چڑھے جو صحیح، باشعور، اور ذمہ دارانہ انتخاب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ یہی تبدیلیِ زاویۂ نگاہ آزادی کو محض بیرونی پابندیوں سے نجات کے تصور سے نکال کر انسان کی داخلی تعمیر، فکری تربیت، اور اخلاقی پختگی سے جوڑ دیتی ہے۔ یوں توجہ صرف جبر کے خلاف مزاحمت پر نہیں رہتی، بلکہ انسان کی شخصیت اور شعور کی اصلاح پر بھی مرکوز ہوجاتی ہے۔

اسی تناظر میں آزادی کو محض ایک سیاسی نعرے کے بجائے ایک ہمہ گیر تربیتی اور تہذیبی منصوبے کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ کیونکہ آزادی صرف قانونی اجازت یا ظاہری اختیار سے قائم نہیں ہوتی، بلکہ اسے ایسی فضا درکار ہوتی ہے جو انسانی شعور کی پرورش کرے، ایسا نظامِ اقدار جو انتخاب کو صحیح سمت عطا کرے، اور ایسے ادارے جو فرد کی آزادی اور معاشرے کے استحکام کے درمیان توازن برقرار رکھ سکیں۔ اگر یہ عناصر موجود نہ ہوں، تو آزادی محض ایک مجرد تصور بن کر رہ جاتی ہے، جسے بسا اوقات انہی رویّوں اور طرزِ عمل کے جواز کے لیے استعمال کیا جانے لگتا ہے جو اس کی اصل غایت اور حقیقی روح کے منافی ہوتے ہیں۔

اسلامی تصور میں آزادی کو انسان اور زندگی کے ایک مکمل نظام کے اندر سمجھا جاتا ہے۔ انسان کو اختیار حاصل ہے، مگر وہ اپنے اعمال کے لیے ذمہ دار بھی ہے، اس لیے اس کی آزادی ایک اخلاقی اور فکری دائرے کے اندر ہوتی ہے۔ اسی بنا پر اسلام میں آزادی کو محض خواہشات کی پیروی نہیں، بلکہ شعور، ذمہ داری، اور مقصدِ زندگی کے مطابق درست راستہ اختیار کرنے کا نام سمجھا جاتا ہے۔

قرآنِ کریم انسان کے اختیار اور آزادی کے اصول کو تسلیم کرتا ہے، لیکن اسے ہمیشہ ہدایت اور انجام کے ساتھ جوڑ کر بیان کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا)، یعنی  ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، اب چاہے وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا۔ یہ اندازِ بیان واضح کرتا ہے کہ آزادی محض انتخاب کی صلاحیت کا نام نہیں، بلکہ ایک آزمائش ہے جو انسان کی حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی لیے آزادی کی اصل قدر اس بات سے متعین نہیں ہوتی کہ وہ انسان کو کتنے انتخاب فراہم کرتی ہے، بلکہ اس سے کہ وہ ان انتخابوں کے ذریعے کس انجام اور کس راستے تک پہنچتا ہے۔

اس طرح اس تصور میں آزادی کا مطلب ہر قسم کی پابندی سے نجات نہیں، بلکہ غلط اور تباہ کن قیود سے آزادی حاصل کرنا، اور اُن اصولوں اور حدود کو اختیار کرنا ہے جو انسان کی حقیقی تکمیل کا ذریعہ بنتے ہیں۔ چنانچہ آزادی ہر ضابطے کے خلاف بغاوت کا نام نہیں، بلکہ اس شعور کا نام ہے جو یہ فرق سمجھ سکے کہ کون سی چیز انسان کو پستی، خواہشات، اور گمراہی میں جکڑتی ہے، اور کون سی چیز اسے درست سمت، اخلاقی بلندی، اور اپنے اصل مقصد تک پہنچنے میں مدد دیتی ہے۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مسئلہ آزادی کے وجود میں نہیں، بلکہ اُس زاویۂ فہم میں ہے جس کے تحت اسے سمجھا اور برتا جاتا ہے۔ آزادی جب اقدار، اخلاق، اور مقصدیت سے جدا ہوجائے تو وہ رفتہ رفتہ بے سمتی اور انتشار میں تبدیل ہو جاتی ہے، اور جب اسے بلا جواز پابندیوں اور جبر کے تحت دبا دیا جائے تو وہ اپنی حقیقی روح کھو بیٹھتی ہے۔ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ایک ایسی متوازن فکر کی ضرورت ہے جو آزادی کو انسان کی تعمیر، اس کے شعور کی پختگی، اور اس کی اخلاقی تکمیل کا وسیلہ بنائے، نہ کہ اس کے داخلی انتشار اور گم گشتگی کا سبب۔

اسی لیے آزادی کے تصور پر ازسرِنو غور کرنا محض ایک نظری یا فکری مشق نہیں، بلکہ عصرِ حاضر کی ایک بنیادی علمی اور انسانی ضرورت ہے۔ کیونکہ آج چیلنج صرف بیرونی قیود کو توڑنے کا نہیں رہا، بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر یہ ہے کہ انسان اپنی حاصل کردہ آزادی کو کس فکری پختگی، اخلاقی ذمہ داری، اور متوازن شعور کے ساتھ استعمال کرتا ہے۔ تاکہ آزادی انسان کو بے سمتی اور انتشار کی طرف لے جانے کے بجائے، اس کی شخصیت کی تعمیر، زندگی کے معنی کے تحفظ، اور اس کی حقیقی انسانیت کے ارتقا کا ذریعہ بن سکے۔

شیئر: