الشيخ معتصم السيد أحمد
جب شیعہ فکر میں غیبت اور سیاسی عمل کے باہمی تعلق کا مسئلہ زیرِ بحث آتا ہے، تو بہت سی معاصر تعبیرات اسے نہایت سطحی اور گمراہ کن انداز میں پیش کرتی ہیں۔ اس تعلق کو یوں بیان کیا جاتا ہے گویا یہ ایک سادہ سی مساوات ہو۔ جیسے غیبت یعنی تعطیل، اور انتظار یعنی ہر قسم کی عملی جدوجہد کو مؤخر کر دینا۔ حالانکہ یہ تصور نہ تو شیعہ فکر کی حقیقی ساخت کی درست ترجمانی کرتا ہے، اور نہ ہی اُس فکری اور داخلی نظام کو واضح کرتا ہے جو صدیوں تک دینی نصوص اور عملی حالات کے مسلسل باہمی تعامل سے تشکیل پاتا رہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ امامیہ مکتب فکر میں سیاسی فکر کسی خلا میں محض ایک تجریدی نظریے کے طور پر وجود میں نہیں آئی، بلکہ یہ پیچیدہ تاریخی حالات اور متنوع سیاسی و سماجی دباؤ کے زیرِ اثر تدریجاً پروان چڑھی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ فکر عام تصورات کے برخلاف کہیں زیادہ وسعت، لچک اور تنوع کی حامل دکھائی دیتی ہے۔
اس تناظر میں پہلی اور بنیادی حقیقت یہ ہے کہ امامِ زمانہؑ (عجل اللہ فرجہ)کی غیبت کے بعد شیعہ سیاسی فکر کبھی بھی کسی ایک جامد اور یک رُخی تصور میں محصور نہیں رہی، بلکہ اس کے اندر ابتدا ہی سے ایک واضح فکری تنوع اور اجتہادی وسعت پائی جاتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ مختلف ادوار میں اس فکر نے کبھی احتیاط اور سیاسی مشارکت کے درمیان توازن قائم کیا، اور کبھی وقتی کنارہ کشی اور مشروط عملی شمولیت کے مختلف زاویے اختیار کیے۔چنانچہ اس تعددِ آراء کو کسی ثابت اصول سے انحراف یا فکری اضطراب پر محمول نہیں کیا جا سکتا، بلکہ یہ خود اسی فکری روایت کی داخلی پختگی اور وسعت کا مظہر ہے۔ایک ایسی روایت جو اپنے اساسی اصولوں پر قائم رہتے ہوئے بھی، بدلتے ہوئے تاریخی اور سماجی حالات کے ساتھ تعامل کے متعدد اجتہادی امکانات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
اسی بنا پر سیاست کے بارے میں’’ایک ہی شیعہ نظریہ‘‘ کی بات کرنا اس فکری تنوع کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے، اور بعض مخصوص رجحانات کو ایسی عمومی قواعد کی شکل دے دیتا ہے جو مکمل تصویر کی نمائندگی نہیں کرتے۔اور اسی بحث کے تناظر میں’’غیبت‘‘ کا مسئلہ ایک نہایت اہم اور قابل توجہ تصور کے طور پر سامنے آتا ہے۔ تاہم اصل اشکال خود اس تصور میں نہیں، بلکہ اس اندازِ فہم میں ہے جس کے ذریعے اسے سمجھا جاتا ہے۔
امامیہ طرز فکر میں غیبت کسی مطلق خلا یا قیادت کے مکمل فقدان کا اعلان نہیں، اور نہ ہی یہ سیاسی زندگی کو معطل کر دینے کا جواز ہے۔ بلکہ یہ ’’معصوم کی براہِ راست موجودگی‘‘ طرز قیادت سے ’’اجتہادی طرز قیادت‘‘ کی طرف ایک انتقال ہے۔ یہ انتقال سیاسی و اجتماعی عمل کو ختم نہیں کرتا، بلکہ اسے نئے شرائط اور ذمہ داری کے تحت ازسرِنو متعین کرتا ہے۔ چنانچہ اب اصل سوال یہ نہیں رہتا کہ ’’امام کی نیابت میں کون حکومت کرے؟‘‘ بلکہ سوال یہ بنتا ہے کہ عملی زندگی اور اجتماعی نظام کو کیسے چلایا جائے جو امامؑ کے پسندیدہ اقدار اور اصولوں سے ہم آہنگ ہو؟
یہیں سے دو ایسے مخلتف پہلووں کے درمیان بنیادی فرق واضح ہوتا ہے جنہیں عموماً خلط ملط کر دیا جاتا ہے۔ ایک حکومت کی شرعیت کا پہلو، اور دوسرا عملی طور پر معاشرے کی تدبیر کا پہلو۔امامیہ فکر جب یہ کہتی ہے کہ حکومت کا کامل ترین نمونہ وہ ہے جو امامِ معصومؑ کی قیادت میں قائم ہو، تو درحقیقت وہ ایک بلند معیاری اور مثالی افق کی بات کرتی ہے، نہ کہ ایسی عملی شرط کی جس کے بغیر ہر دوسرے نظام کو مکمل طور پر معطل کر دیا جائے۔یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے بہت سے اخلاقی نظریات ایک اعلیٰ ترین نمونۂ کمال پیش کرتے ہیں، مگر اس کے باوجود اس کمال تک پہنچنے کی جزوی اور تدریجی کوششوں کی اہمیت کو ختم نہیں کرتے۔ لہٰذا کامل نمونے کی عدم موجودگی، ذمہ داری کے خاتمے کا سبب نہیں بنتی، بلکہ انسان کو اس بات کا پابند بناتی ہے کہ وہ عملی حالات کی حدود کے اندر رہتے ہوئے ممکنہ بہترین” کو تلاش کرے۔
ان دو پہلووں میں شاید یہی تفریق ہی تھی کہ جس نے شیعہ فکر میں سیاسی اجتہاد کے دروازے کھولے۔ چنانچہ غیبت کو تاریخ کے خاتمے کے طور پر نہیں دیکھا گیا، بلکہ اسے ایک ایسے مرحلے کے طور پر سمجھا گیا جس میں معاشرے کی مدیریت اور اجتماعی نظم کے لیے نئے طرزِ فکر اور نئی اجتہادی صورتوں کی ضرورت پیش آتی ہے۔
اسی وجہ سے فقہی میراث میں قضاوت، ولایت، حدود کے نفاذ، اور عمومی امورِ حکومت کی تنظیم جیسے مسائل پر وسیع اور گہرے مباحث ملتے ہیں۔ یہ سب اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ سیاسی عمل کو کبھی معطل شدہ شے کے طور پر نہیں دیکھا گیا، بلکہ اسے مسلسل بحث، اجتہاد اور ارتقا کا موضوع سمجھا گیا۔یہ فقہی مباحث محض نظری یا فکری مشق نہیں تھے، بلکہ ان حقیقی ضروریات کا جواب تھے جو بدلتے ہوئے حالات میں شیعہ معاشروں کی عملی زندگی نے پیدا کی تھیں۔اسی تناظر میں ایک اور نہایت اہم عنصر سامنے آتا ہے، اور وہ ہے شیعہ شعور میں ’’ظلم کے خلاف مزاحمت‘‘ کا مرکزی تصور۔ یہ محض ایک عمومی اخلاقی قدر نہیں رہی، بلکہ رفتہ رفتہ ایک بنیادی فکری ستون میں تبدیل ہو گئی، خصوصاً امام حسین بن علیؑ کے واقعۂ کربلا کو ایک مسلسل اور زندہ تاریخی نمونہ کے طور پر یاد رکھنے کے ذریعے یہ فکری بنیاد نہایت مضبوط ہوئی۔
کربلا اس شعور میں محض ایک ماضی کا واقعہ نہیں، بلکہ ایک مستقل معیار ہے جس کے ذریعے ہر سیاسی اور اخلاقی موقف کو پرکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تصور کرنا بھی مشکل ہے کہ کوئی ایسی فکر جو اس نمونے کو اپنے اندر لئے ہوئے ہو، وہ کسی قسم کی خاموشی، جبر کے سامنے سر تسلیم خم کرنے یا ظلم کو قبول کرنے کی ثقافت کو جنم دے سکے۔ اس کے برعکس، یہ مسلسل تحریک انسانی عمل کو ایک نئی معنوی توانائی اور مزاحمتی شعور عطا کرتا ہے، حتیٰ کہ انتہائی سخت حالات میں بھی کربلا انسان کو مزاحمت اور مقابلے کا شعور دیتی ہے۔
تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس فکری دائرے میں سیاسی عمل ہمیشہ انقلابی یا تصادم پر مبنی ہی رہا ہو۔ بلکہ دیگر انسانی تجربات کی طرح یہاں بھی عملی سیاست ہمیشہ زمینی حقائق اور امکانات کے حساب سے چلتی رہی ہے۔ معاشرے صرف اقدار کے سہارے نہیں چلتے، بلکہ طاقت اور کمزوری کے حقیقی توازن کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔یہی وہ حقیقت ہے جو مختلف ادوار میں سیاسی سرگرمی اور احتیاط کے درمیان پائے جانے والے فرق کی وضاحت کرتی ہے۔ اور اس تنوع کو کسی فکری تضاد کے طور پر نہیں بلکہ تاریخ کے ساتھ اس فکر کے مسلسل تعامل کے طور پر سمجھنا چاہیے۔
اس باب میں جن امور کو اکثر غلط فہمی کا شکار بنایا جاتا ہے، ان میں ’’انتظار‘‘ اور عملی اقدام کے درمیان تعلق بھی شامل ہے۔ بہت دفعہ انتظار کو ایک منفی کیفیت، محض خاموش بیٹھ کر کسی واقعے کے رونما ہونے کا منتظر رہنے کی حالت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن یہ تعبیر شیعہ ثقافتی و فکری ڈھانچے سے ہم آہنگ نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ انتظار اپنے جوہر میں ذمہ داری کو معطل نہیں کرتا، بلکہ اسے ایک نئی سمت دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں انسان ایک ایسی مسلسل تیاری کی کیفیت میں داخل ہوتا ہے جو عدل کے قیام کے لیے ہر شخص کو اس کی استطاعت اور مقام کے مطابق متحرک رکھتی ہے۔یہ ایسا انتظار ہے جو عمل کرتا ہے، نہ کہ ایسا جو محض تماشائی بن کر دیکھتا رہے۔ یہ وہ انتظار ہے جو عدل کے ظہور کے لیے زمین ہموار کرتا ہے، نہ کہ اس کے غیاب کو جواز فراہم کرے۔
یہ معنی اس وقت زیادہ واضح ہوتا ہے جب ہم مهدویت کے فکری و قدری پہلو پر غور کرتے ہیں۔ مهدویت کو محض ایک ایسا مستقبل کا وعدہ نہیں سمجھا جاتا جو حال سے الگ اور منقطع ہو، بلکہ اسے ایک ایسے فکری افق کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو موجودہ زمانے کو اس کا حقیقی معنی عطا کرتا ہے۔ جب انسان اس بات پر ایمان رکھتا ہے کہ آخرکار عدل کا تحقق ممکن ہے، تو وہ عملی میدان سے کنارہ کش نہیں ہوتا، بلکہ اسے استمرار اور استقامت کا محرک ملتا ہے، چاہے فوری نتائج محدود ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ افق انسان کو مایوسی میں گرنے سے روکتا ہے اور اس کے عمل کو وقتی حساب کتاب سے بلند ایک معنویت عطا کرتا ہے۔
اسی تناظر میں شیعہ سیاسی فکر میں بعد کے ادوار میں ہونے والی فکری پیش رفت کو سمجھا جا سکتا ہے، جہاں مختلف سطحوں پر ایسی نظریاتی کوششیں سامنے آئیں جنہوں نے تراث سے استفادہ کرتے ہوئے اسے جامد تکرار کے بجائے زندہ فکری وسائل کے طور پر استعمال کیا۔ یہ تمام کوششیں اس بات پر متفق دکھائی دیتی ہیں کہ غیبت کو رکاوٹ نہیں بلکہ ایک فکری چیلنج سمجھا جائے جو تخلیق اور اجتہاد کو تحریک دیتا ہے۔یہی امر اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ فکر کبھی جامد نہیں رہی، بلکہ مسلسل نظرثانی، ارتقا اور تجدید کے لیے کھلی رہی ہے۔ بہت سےجدید تحقیقات میں اصل مسئلہ اس فکری روایت پر تنقید نہیں ہوتا، بلکہ اس کے مطالعے کا طریقہ کار ہوتا ہے۔ اکثر یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ منتخب (انتقائی) انداز اپنایا جاتا ہے اور عمومی (تعمیمی) نتائج اخذ کر لیے جاتے ہیں، جبکہ ان تاریخی و سماجی سیاق و سباق کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے جن میں یہ نصوص اور سیاسی رویے وجود میں آئے۔یوں اس فکر کو ایک زندہ اور متحرک نظام کے طور پر دیکھنے کے بجائے، اسے چند جملوں یا محدود رجحانات تک سمیٹ دیا جاتا ہے، اور پھر انہی پر مبنی ایک جامع حکم لگا دیا جاتا ہے۔ یہ طرزِ مطالعہ فہم و ادراک میں مدد دینے کے بجائے اکثر پہلے سے موجود دقیانوسی تصورات کو مزید مضبوط کر دیتا ہے۔
آخر میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ شیعہ فکر میں غیبت اور سیاسی عمل کے درمیان تعلق کو کسی سادہ مساوات میں محدود نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ ایک پیچیدہ تعلق ہے جو عدل کے ایک مثالی افق پر ایمان اور عملی حالات کے اندر رہ کر عمل کی پابندی دونوں کو یکجا کرتا ہے۔یہ تعلق مثالی تصور اور زمینی حقیقت کے درمیان موجود تناؤ کو ختم نہیں کرتا، بلکہ اسے منظم کرتا ہے اور اجتہادِ مسلسل کی ایک محرک قوت میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اس لیے اس فکر کو محض “نظریہ تعطیل” کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ اسے ایک مسلسل کوشش کے طور پر سمجھا جانا چاہیے جو ممکنہ ذمہ داری کو اس مثالی عدل کے افق کے اندر تلاش کرتی رہتی ہے جس کی امید رکھی جاتی ہے۔اور یہ تلاش اس وقت تک جاری رہتی ہے جب تک انسان خود اپنی فطرت کے مطابق کمال کی طرف سفر کرتا رہتا ہے۔