شیخ معتصم السید احمد
اپنے معاشرتی اور فکری ماحول پر غور کرنے والا کوئی بھی شخص آسانی سے اس حقیقت کو محسوس کرسکتا ہے کہ ہمارے زمانے کے بہت سے فکری مباحث، سماجی بحران اور تہذیبی کشمکشیں دراصل ماضی کے واقعات ہی کی نئی شکلیں ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وقت بدل گیا ہے، نام بدل گئے ہیں اور عنوانات نئے ہوگئے ہیں، لیکن فکر، رویّے اور انسانی کمزوریاں وہی پرانی ہیں۔
اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم کوئی بالکل نئے حادثات نہیں جھیل رہے، بلکہ تاریخ کے پرانے مناظر ہی جدید لباس میں دوبارہ ہمارے سامنے دہرائے جا رہے ہیں۔ یہی حقیقت ایک نہایت اہم سوال کو جنم دیتی ہے کہ آخر انسان اتنی علمی ترقی، وسیع تجربات اور تاریخ کے بے شمار اسباق کے باوجود اپنی غلطیوں کو بار بار کیوں دہراتا ہے؟ اس سوال کا صحیح جواب تلاش کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم پہلے تاریخ کے بارے میں اپنے عمومی تصور پر نظرِ ثانی کریں۔ عام طور پر تاریخ کو صرف گزرے ہوئے واقعات کی داستان، معلومات کے ذخیرے، یا ثقافتی دلچسپی کی ایک چیز یا کہانی سمجھ لیا جاتا ہے۔ حالانکہ تاریخ کی اصل اہمیت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔
تاریخ درحقیقت انسانی زندگی اور معاشروں پر کارفرما اُن اٹل اصولوں اور قوانین کی درسگاہ ہے، جنہیں “سننِ تاریخ” کہا جا سکتا ہے۔ اس اعتبار سے تاریخ صرف یہ نہیں بتاتی کہ “کیا رونما ہوا”، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ سمجھاتی ہے کہ “کیوں ہوا”، “کن وجوہات کی بنا پر دوبارہ دہرایا گیا”، اور “کن حالات میں پھر سے دہرایا جا سکتا ہے”۔
یہاں ایک نہایت بنیادی حقیقت سامنے آتی ہے، اور وہ یہ کہ تاریخ اپنے ظاہری واقعات اور جزئیات میں نہیں دہرائی جاتی، بلکہ اپنے قوانین اور اصولوں میں دہرائی جاتی ہے۔ قومیں ایک ہی انداز سے زوال پذیر نہیں ہوتیں، لیکن ان کے زوال کے اسباب اکثر ایک جیسے ہوتے ہیں۔ اسی طرح اقوام ایک ہی شکل میں ترقی اور عروج حاصل نہیں کرتیں، مگر ان کی بیداری اور کامیابی کے لیے درکار شرائط ہمیشہ مشترک رہتی ہیں۔جب انسان ان تاریخی اصولوں کو سمجھ لیتا ہے تو یہی اصول حال کو سمجھنے اور مستقبل کا اندازہ لگانے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ لیکن جب انہیں نظر انداز کیا جاتا ہے تو تاریخ خود کو دوبارہ منواتی ہے، البتہ اس بار اس کی قیمت کہیں زیادہ بھاری ہوتی ہے۔
آج کے فکری اور ثقافتی ماحول میں اس مسئلے کی ایک نمایاں صورت شعور اور طاقت کے تعلق میں دیکھی جا سکتی ہے۔ بعض فکری رجحانات میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ محض درست فکر، علمی آگہی یا اچھا بیانیہ حقیقت کو بدل دینے کے لیے کافی ہے، جبکہ وہ ان اجتماعی اصولوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو معاشروں کی حرکت کو کنٹرول کرتے ہیں۔ کیونکہ حقیقی تبدیلی صرف خیالات سے نہیں آتی، بلکہ اس کے لیے تدریجی شعور، منظم جدوجہد اور صبر آزما ارتقائی عمل درکار ہوتا ہے۔یہ طرزِ فکر، خواہ نیت کے اعتبار سے کتنا ہی مخلص کیوں نہ ہو، دراصل تاریخ کی ایک پرانی غلطی کو دہراتا ہے۔ یعنی تبدیلی کی لازمی شرائط کو نظر انداز کرکے صرف جذباتی جوش یا فکری ولولے پر اعتماد کر لینا، بغیر اس بنیاد کو تعمیر کیے جو کسی پائیدار تبدیلی کو ممکن بناتی ہے۔
دوسری طرف ایک اور سوچ سامنے آتی ہے، جو یہ سمجھتی ہے کہ حقیقتِ حال اتنی طاقتور ہے کہ اسے بدلا نہیں جا سکتا، اور تاریخ ایک ایسی بے رحم قوت کے تحت چلتی ہے جس کا مقابلہ ممکن نہیں۔ نتیجتاً انسان فکری شکست خوردگی، ثقافتی سپردگی اور منفی موافقت کا شکار ہو جاتا ہے۔یہ رجحان بھی درحقیقت تاریخ کی ایک پرانی غلطی کا اعادہ ہے، کیونکہ اس میں تاریخ کو ایک ایسے اٹل جبر میں بدل دیا جاتا ہے جہاں انسانی ارادہ، شعور اور عمل کی کوئی حقیقی اہمیت باقی نہیں رہتی۔ حالانکہ تاریخ کے اصول خود اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ انسان اپنے مستقبل کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرتا ہے، اور ہر حقیقی تبدیلی کی ابتدا انسان کے اندر سے ہوتی ہے، جو بعد میں معاشرے اور بیرونی دنیا میں اپنے اثرات ظاہر کرتی ہے۔یوں ہم اپنے آپ کو دو ایسے مختلف راستوں کے درمیان کھڑا پاتے ہیں کہ ایک ذہنیت یہ گمان کرتی ہے کہ وہ تاریخ کے اصولوں سے بالاتر ہو سکتی ہے، جبکہ دوسری ان اصولوں کے سامنے مکمل بے بسی اختیار کر لیتی ہے۔ حالانکہ صحیح تاریخی شعور یہ ہے کہ انسان ان اصولوں کو سمجھے، ان کے دائرے میں رہتے ہوئے بصیرت کے ساتھ عمل کرے، نہ ان سے فرار اختیار کرے اور نہ خود کو ان سے بے نیاز تصور کرے۔
تاریخ کے ساتھ غلط طرزِ تعامل کی ایک اور نمایاں صورت یہ ہے کہ پرانے تنازعات کو نئے لباس میں دوبارہ زندہ کر دیا جاتا ہے۔ آج کے بہت سے فکری اور ثقافتی مباحث دراصل موجودہ حقیقت کے غیر جانبدار مطالعے سے جنم نہیں لیتے، بلکہ ماضی کے جھگڑوں اور تاریخی تصادم کو اٹھا کر حال پر منطبق کر دینے کا نتیجہ ہوتے ہیں، بغیر اس بات کو سمجھے کہ زمانے، حالات اور سماجی تناظر بدل چکے ہیں۔اسی وجہ سے بعض فکری بیانیے ماضی سے رہنمائی لینے کے بجائے خود ماضی کے قیدی بن جاتے ہیں۔ وہ تاریخ سے سبق حاصل نہیں کرتے بلکہ اسے دوبارہ دہرانے لگتے ہیں، گویا تاریخ نے انہیں کچھ سکھایا ہی نہ ہو۔ اس طرح تاریخ، جو شعور اور بصیرت کا سرچشمہ بن سکتی تھی، اختلاف اور تقسیم کا ذریعہ بن جاتی ہے، اور جو فہم و ادراک کا وسیلہ تھی، وہ محض جواز تراشنے کا ہتھیار بن کر رہ جاتی ہے۔
اس کے برعکس تاریخ کو سمجھنے کا ایک متوازن اور باشعور انداز بھی ہے۔ یہ وہ طرزِ فکر ہے جو واقعات کی ظاہری تفصیلات میں الجھنے کے بجائے ان سے سبق حاصل کرتا ہے، اور حادثات کو اہمیت دینے کے بجائے ان کے پسِ پردہ کارفرما اصولوں کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی رویہ ایک ایسے فکری اور ثقافتی شعور کو جنم دیتا ہے جو یہ تمیز کر سکے کہ کون سی چیزیں دائمی اور اصولی ہیں، اور کون سی چیزیں وقت کے ساتھ تبدیل ہو سکتی ہیں، کون سی اقدار ایسی ہیں جن کی حفاظت ضروری ہے، اور کون سے ذرائع اور اسالیب ایسے ہیں جنہیں ترقی دی جا سکتی ہے۔
تاریخ ہم سے یہ مطالبہ نہیں کرتی کہ ہم ماضی کو دوبارہ زندہ کریں، بلکہ یہ چاہتی ہے کہ ہم اس سے سیکھیں، اور اس کے تجربات کو ایک زندہ شعور میں بدل دیں جو ہمارے حال کی رہنمائی کرے۔تاریخ کی اہم اصولوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انحراف اچانک اور بہت بڑے پیمانے پر پیدا نہیں ہوتا، بلکہ آہستہ آہستہ خاموشی سے پھیل جا تا ہے۔ اکثر بڑے بحرانوں کی ابتدا چھوٹی چھوٹی لغزشوں سے ہوئی ہے، جنہیں ابتدا میں معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیا گیا۔ اگر اس اصول کو سنجیدگی سے سمجھ لیا جائے تو عصرِ حاضر کے بہت سے فکری اور اخلاقی مسائل کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے، کیونکہ ابتدا میں بعض انحرافات کو یہ کہہ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ ان کا اثر محدود ہے، لیکن رفتہ رفتہ یہی چھوٹی خرابیاں پھیل کر ایسے بحرانوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں جن پر قابو پانا دشوار ہو جاتا ہے۔
تاریخ ایک اور حقیقت کو بھی آشکار کرتی ہے، اور وہ یہ کہ طاقت اگر اخلاقی اقدار اور اصولوں کے تابع نہ رہے تو وہ تعمیر کے بجائے تباہی کا ذریعہ بن جاتی ہے، جبکہ کمزوری اگر شعور، بصیرت اور صحیح فکر کے ساتھ ہو تو وہی بیداری اور عروج کی ابتدا ثابت ہو سکتی ہے۔ اقوام کی تاریخ میں یہ حقیقت بارہا نمایاں ہوئی ہے کہ کامیابی صرف مادی وسائل اور ظاہری قوت کا نتیجہ نہیں ہوتی، بلکہ اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ ایک معاشرہ اپنی طاقت کو کتنی حکمت کے ساتھ ایک مضبوط اخلاقی اور فکری نظام کے تحت استعمال کرتا ہے۔ان تاریخی اصولوں کو یاد رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ تاریخ کو ایک جامد اور بند کتاب سمجھ لیا جائے، بلکہ اسے فہم و ادراک کے ایک کھلے افق کے طور پر دیکھا جائے۔ تاریخ ہمیں تیار شدہ جوابات نہیں دیتی، لیکن وہ ہمیں سمجھنے کی وہ کنجیاں ضرور عطا کرتی ہے جن کے ذریعے ہم اپنے حال کو زیادہ گہرائی کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں، اور اُن غلطیوں سے بچ سکتے ہیں جن کی بھاری قیمت ہم سے پہلے آنے والے ادا کر چکے ہیں۔
اسی تناظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اصل مسئلہ معلومات کی کمی نہیں بلکہ تاریخی شعور کی کمزوری ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں علم و معلومات پہلے سے کہیں زیادہ دستیاب ہیں، لیکن یہ معلومات لازماً شعور میں تبدیل نہیں ہوتیں، کیونکہ انہیں تاریخ کے اصولوں کی روشنی میں نہیں سمجھا جاتا اور نہ ہی انسانی تجربات کے تسلسل کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ اسی لیے تاریخ کے ساتھ اپنے تعلق کو دوبارہ درست کرنا کوئی ثقافتی مشغلہ نہیں بلکہ حال کو سمجھنے اور مستقبل کی تعمیر کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہے۔جو انسان تاریخ سے سبق حاصل نہیں کرتا، وہ صرف حال میں نہیں جیتا بلکہ وہ ایک الگ دنیا میں رہتے ہیں جس کا نہ ماضی سے تعلق ہوتا ہے اور نہ مستقبل سے۔ یہی اسے بار بار غلطیاں دہرانے پر آمادہ کرتی ہے اور حالات کے رخ کو سمجھنے کی صلاحیت کم کر دیتی ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص تاریخ کو شعور اور بصیرت کے ساتھ پڑھتا ہے، وہ صرف ماضی کو نہیں سمجھتا بلکہ اس کے اندر مستقبل کے اشارے بھی دیکھ لیتا ہے۔ وہ زندگی کے حقائق کو زیادہ گہرائی سے سمجھتا ہے، کیونکہ اس کی نظر صرف ظاہری واقعات تک محدود نہیں رہتی بلکہ ان اصولوں اور قوانین تک پہنچ جاتی ہے جو ان کے پس منظر میں کام کر رہے ہوتے ہیں۔
آخر میں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ تاریخ صرف واقعات کا ذخیرہ نہیں بلکہ اصولوں اور سنّتوں کی یادداشت ہے۔ جو شخص ان اصولوں کو نہیں سمجھتا، وہ خود انہی کے دائرے میں زندگی گزارتا ہے مگر اسے اس کا شعور نہیں ہوتا۔ آج کے فکری اور ثقافتی ماحول میں اصل چیلنج معلومات حاصل کرنا نہیں بلکہ انہیں صحیح فہم میں تبدیل کرنا ہے، اور حال کو ماضی کے ساتھ اس طرح جوڑنا ہے کہ انسان ان مستقل اصولوں کو پہچان سکے جو زمانوں کے بدلنے کے باوجود اپنی حقیقت میں تبدیل نہیں ہوتے، چاہے ان کی شکلیں بدل جائیں۔اسی لیے انسان اپنے لیے اور اپنے معاشرے کے لیے سب سے بڑی خدمت یہی انجام دے سکتا ہے کہ وہ تاریخ کا اچھا طالبِ علم بن جائے، کیونکہ یہی وہ درسگاہ ہے جو انسان کو راستہ بھٹکنے سے پہلے صحیح سمت دکھا دیتی ہے، ورنہ انسان کو وہی سبق دوبارہ تجربات اور نقصان اٹھا کر سیکھنا پڑتا ہے۔