الشيخ معتصم السيد أحمد
انسانی شعور میں سب سے زیادہ اہم اور قدیم نوعیت کے سوالات میں سے ایک سوال ’’عدل الہی‘‘ سے متعلق ہے ۔یعنی انسان ہمیشہ سے یہ جاننے کی کوشش کرتا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کا حساب کس معیار پر لے گا، جبکہ خود انسان ایک دوسرے سے ہر اعتبار سے مختلف ہیں۔ نہ سب کے حالات یکساں ہیں، نہ سب کی ذہنی و فکری صلاحیتیں برابر ہیں، اور نہ ہی حقیقت ہر فرد تک ایک ہی درجے کی وضاحت اور یکسانیت کے ساتھ پہنچتی ہے۔
کچھ لوگ ایسے ماحول میں پرورش پاتے ہیں جہاں علم، شعور اور معرفت کے دروازے ان کے لیے کھلے ہوتے ہیں، جبکہ بعض ایسے حالات میں پیدا ہوتے ہیں جہاں جہالت، تعصب یا فکری رکاوٹیں انہیں حقیقت تک پہنچنے نہیں دیتیں۔ اسی طرح بعض افراد غیر معمولی فکری صلاحیت اور قوتِ تمییز رکھتے ہیں، جبکہ کچھ محدود فہم اور کمزور ادراک کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ ان تمام اختلافات کے باعث انسانوں کے مواقع، امکانات اور حالات میں بہت بڑا تفاوت پایا جاتا ہے۔
اسی واضح تفاوت کے تناظر میں ایک بنیادی سوال اٹھتا ہے کہ جب انسانوں کے حالات، صلاحیتیں اور مواقع ایک جیسے نہیں، تو پھر ان کی بازپُرس کس طرح عادلانہ ہو سکتی ہے؟ کیا سب انسانوں کا حساب ایک ہی معیار پر ہوگا، یا عدل کا تقاضا یہ ہے کہ ان کے درمیان موجود فرق و امتیاز کو بھی ملحوظ رکھا جائے؟ اور اگر ایسا ہے تو پھر وہ حقیقی معیار کیا ہے جس کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ انسان کے بارے میں فیصلہ فرمائے گا؟
یہ ایک نہایت گہرا اور حساس سوال ہے، جسے سطحی اور سادہ جوابات کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہِ راست انسان کی حقیقت، اس کی ذمہ داری، اور اس کے ابدی انجام سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں عدلِ الٰہی کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے انسان کی فطرت، اس کی ذہنی و فکری حدود، اس کے علم و ادراک کی نوعیت، اور حقیقت کے ساتھ اس کے تعلق کو صحیح طور پر سمجھا جائے پھر اس کے بعد ہی دینی نصوص کو اس وسیع تناظر میں پڑھا جائے، نہ کہ ان سے الگ اور جداگانہ انداز میں۔
قرآنِ مجید عدلِ الٰہی کے فہم کے لیے ایک ایسا بنیادی اصول پیش کرتا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو صرف اسی حد تک مکلف اور جواب دہ قرار دیتا ہے جس حد تک اس پر حق واضح ہو چکا ہو، اور جس قدر اسے سمجھنے اور اختیار کے ساتھ فیصلہ کرنے کی قدرت حاصل ہو۔چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا﴾ اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کوئی رسول نہ بھیج دیں۔(سورۂ الإسراء:15)
اس آیت کو صرف انبیاء کی بعثت سے متعلق ایک تاریخی حکم کے طور پر نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ یہ آیت دراصل عدلِ الٰہی کا ایک ہمہ گیر اصول بیان کرتی ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان کو اس وقت تک مؤاخذہ اور سزا کا مستحق قرار نہیں دیتا جب تک اس پر حقیقت واضح نہ کر دی جائے اور اس کے سامنے حق کا بیان مکمل نہ ہو جائے۔اسی حقیقت کو قرآنِ مجید ایک اور مقام پر یوں بیان کرتا ہے: ﴿رُسُلًا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ﴾ ایسے رسول جو خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے تھے، تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے لیے اللہ کے خلاف کوئی حجت باقی نہ رہے۔ (سورۂ النساء: 165)
یعنی اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو بشارت دینے اور ڈرانے کی غرض سے بھیجا تاکہ لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت اور عذر باقی نہ رہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بازپُرس اسی وقت عادلانہ ہو سکتی ہے جب انسان پر پہلے حجت قائم کی جا چکی ہو۔ کیونکہ بغیر وضاحت، بغیر رہنمائی، اور بغیر امکانِ فہم کے کسی کو ذمہ دار ٹھہرانا عدل کے خلاف ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے ظلم اور ناانصافی سے پاک ہے۔
اسی تناظر میں اسلام ایمان کو محض ایک ظاہری وابستگی یا رسمی شناخت کے طور پر نہیں دیکھتا، بلکہ وہ اس حقیقت کی شعوری اور پورےادراک کے ساتھ قبولیت کا عنوان قرار دیتا ہے۔ قرآنِ مجید کے نزدیک اصل اہمیت صرف کسی مذہبی عنوان یا نسلی وابستگی کی نہیں، بلکہ معاملے میں اصل اہمیت اس شعوری کیفیت کی ہے جس کے ساتھ انسان حق کو پہچانتا اور قبول کرتا ہے۔اسی لیے قرآن ایمان کو علم، فہم اور بصیرت کے ساتھ وابستہ کرتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿قُلْ هَٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي﴾ کہدیجیے: یہ میرا راستہ ہے، میں اور میرے پیروکار بصیرت کے ساتھ اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں۔(سورۂ یوسف:108)
اس آیت میں “بصیرت” کو دعوتِ الٰہی اور ایمان کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ یعنی حقیقی ایمان وہ ہے جو شعور، معرفت اور داخلی اطمینان کے ساتھ اختیار کیا جائے، نہ کہ محض تقلید، ماحول یا وراثتی وابستگی کی بنیاد پر۔چنانچہ اسلام انسان سے اندھی پیروی کا مطالبہ نہیں کرتا، بلکہ اسے غور و فکر، تدبر اور حقیقت شناسی کی دعوت دیتا ہے، تاکہ اس کا ایمان ایک باشعور انتخاب بنے، نہ کہ بے سوچے سمجھے قبول کر لیا گیا عقیدہ۔ یہی بصیرت انسان کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ حق و باطل کے درمیان فرق کر سکے، اور اسی بنیاد پر اس کی ذمہ داری اور بازپُرس کابھی تعین ہوتا ہے۔
اسی بنا پر عدلِ الٰہی کا معیار محض ناموں، ظاہری عنوانات یا رسمی وابستگیوں کے گرد نہیں گھومتا، بلکہ وہ اس کا اصل تعلق انسان اور حقیقت کے درمیان قائم ہونے والے شعوری رشتے سے ہے۔ چنانچہ اسلام کی نگاہ میں بنیادی سوال یہ نہیں کہ انسان کس مذہب، قوم یا گروہ سے تعلق رکھتا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس نے حقیقت کو کس حد تک پہچانا، اور جو کچھ اس پر واضح ہوا اس کے ساتھ اس کا رویّہ کیا رہا۔
یعنی انسان کی قدر و قیمت صرف اس کی ظاہری شناخت سے متعین نہیں ہوتی، بلکہ اس کی قدر و قیمت اس بات سے ہوتی ہے کہ اس نے اپنے علم، شعور اور فہم کے مطابق حق کے ساتھ کیسا معاملہ کیا۔ کیا اس نے حقیقت کو اخلاص کے ساتھ تلاش کیا؟ کیا اس نے تعصب، خواہش یا ضد کی بنا پر حق سے اعراض کیا؟ یا پھر اپنی استطاعت کے مطابق حق کو قبول کرنے کی کوشش کی؟قرآنِ مجید اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ وَيَحْيَىٰ مَنْ حَيَّ عَن بَيِّنَةٍ﴾ تاکہ جو ہلاک ہو وہ واضح دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ واضح دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔(سورۂ الأنفال: 42)
یعنی جو ہلاک ہو وہ بھی دلیل اور وضاحت کے بعد ہلاک ہو، اور جو زندگی پائے وہ بھی دلیل اور بصیرت کے ساتھ زندگی پائے۔ اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ نجات اور ہلاکت کوئی اندھا، جبری یا بے بنیاد فیصلہ نہیں، بلکہ اس کا تعلق “قیامِ حجت” اور “وضوحِ حق” سے ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کا فیصلہ اسی بنیاد پر کرتا ہے کہ اس کے سامنے حقیقت کس درجے میں واضح ہوئی تھی، اور اس نے اس کے مقابلے میں کیا رویّہ اختیار کیا۔
قرآنِ مجید اس بات کی بھی تاکید کرتا ہے کہ ذمہ داری انسان کی قدرت اور استطاعت کے ساتھ وابستہ ہے، لہٰذا انسان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں بنایا جاتا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾ اللہ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔(سورۂ البقرہ: 286) اور فرمایا: ﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا﴾ اللہ کسی شخص کو صرف اسی قدر مکلف بناتا ہے جتنا اسے عطا کیا ہے۔(سورۂ الطلاق،: 7) یہ آیات عدل کے ایک نہایت گہرے تصور کی بنیاد فراہم کرتی ہیں، جہاں فیصلہ انسان کی حقیقی حالت اور عملی ظرف کے مطابق کیا جاتا ہے، نہ کہ اس کے بارے میں کسی فرضی اور مثالی تصور کی بنیاد پر۔
اہلِ بیت علیہم السلام کی روایات میں بھی یہ حقیقت نہایت واضح انداز میں بیان ہوئی ہے۔ چنانچہ امام جعفر صادقؑ سے روایت ہے کہ آپؑ نے فرمایا: ’’ہمارے عقیدے کا حصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر اسی چیز کے ذریعے حجت قائم کرتا ہے جو انہیں عطا کی گئی ہو اور جس کی انہیں معرفت دی گئی ہو… پھر فرمایا: ہر وہ چیز جس کے انجام دینے کی لوگوں میں قدرت اور کوشش کی صلاحیت ہو، وہ اس کے مکلف ہیں، اور جس کی ان میں استطاعت نہ ہو وہ ان سے ساقط ہے‘‘ اس روایت سے واضح ہوتا ہے کہ حساب اور مؤاخذہ کا مدار اس علم اور معرفت پر ہے جو انسان تک پہنچی ہو، نہ کہ اس چیز پر جو اس تک پہنچی ہی نہ ہو۔
ایک اور روایت میں امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں: میں نے امیرالمؤمنین علیؑ کی ایک کتاب میں دیکھا کہ انسان کی قدر و قیمت اس کی معرفت کے مطابق ہے، اور اللہ تبارک و تعالیٰ دنیا میں لوگوں کو جتنی عقل عطا فرماتا ہے، قیامت کے دن ان کا حساب بھی اسی کے مطابق لے گا۔ اسی طرح امام محمد باقرؑ سے روایت ہے: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندوں کا باریک بینی کے ساتھ حساب ان عقلوں کے مطابق لے گا جو انہیں دنیا میں عطا کی گئی تھیں۔یہ روایات انسانی ادراک، فہم اور عقل کے تفاوت کو نہایت دقیق انداز میں واضح کرتی ہیں، اور اسی تفاوت کی بنیاد پر ذمہ داری اور بازپُرس کی مختلف نوعیت کو بھی بیان کرتی ہیں۔
دوسری جانب اگر ہم عدل کے اُس مفہوم پر غور کریں جسے امیرالمؤمنین حضرت علیؑ نے اپنے اس قول میں بیان فرمایا ہےکہ عدل یہ ہے کہ ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھا جائے۔ تو یہ محض ایک لغوی تعریف نہیں رہتی، بلکہ یہ ایک ایسا بنیادی اصول بن جاتی ہے جو یہ واضح کرتا ہے کہ عملی زندگی میں عدل کس طرح تحقق پاتا ہے۔عدل کا مطلب یہ نہیں کہ تمام مختلف انسانوں کے ساتھ ایک جیسا برتاؤ کیا جائے، کیونکہ جو لوگ حقیقتاً برابر نہ ہوں، ان کے درمیان ظاہری مساوات قائم کرنا دراصل انصاف نہیں بلکہ ایک قسم کا ظلم ہے۔ بنابر ایں حقیقی عدل یہ ہے کہ ہر انسان کو اس کے حالات، اس کی استعداد، اور اس کی حقیقی حیثیت کے مطابق وہ حق دیا جائے جس کا وہ مستحق ہے، نہ کہ کسی فرضی اور عمومی معیار کی بنیاد پر۔
پس اگر اُس شخص کو، جس کے سامنے حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ آشکار تھی، اُس شخص کے برابر قرار دے دیا جائے جو مجبوری کے تحت فکری ابہام اور الجھن میں زندگی گزارتا رہا ہو یا اُس انسان کو، جس کے لیے علم و معرفت کے اسباب مہیا تھے، اُس شخص جیسا سمجھ لیا جائے جو ان مواقع سے محروم رہا، تو یہ درحقیقت عدل کا قیام نہیں بلکہ عدل کی نفی ہوگی۔
اسی لیے عدلِ الٰہی اس بات پر قائم نہیں کہ تمام انسانوں کے ساتھ ایک جامد اور یکساں معیار کے مطابق معاملہ کیا جائے، بلکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ انسانوں کے درمیان موجود حقیقی تفاوت کو ملحوظ رکھا جائے؛ خواہ وہ علم و آگہی کا فرق ہو، قدرت و استطاعت کا، حالات و ماحول کا، یا پھر حقیقت تک رسائی کے امکانات کا۔
یہ فہم ہمیں محاسبۂ الٰہی کی حقیقت کو زیادہ گہرائی کے ساتھ سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حساب محض کسی عمل کے ظاہری نتیجے کی بنیاد پر نہیں ہوگا، بلکہ یہ حساب اُس پورے راستے اور پس منظر کو سامنے رکھ کر ہوگا جو اس نتیجے تک پہنچنے کا سبب بنا۔ یعنی یہ دیکھا جائے گا کہ انسان کو کیا امکانات میسر تھے؟ اسے کس حد تک حقیقت سمجھنے کا موقع ملا؟ وہ کیا سمجھ سکتا تھا؟ اور پھر ان تمام عوامل کے بعد اس نے کون سا راستہ اختیار کیا؟اس اعتبار سے عدلِ الٰہی صرف کسی فعل پر صادر ہونے والا فیصلہ نہیں، بلکہ انسان کو اُس کے مکمل سیاق و سباق، حالات، ادراک، نیت اور اختیار کے ساتھ دیکھ کر کیا جانے والا فیصلہ ہے۔
اسی بنا پر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اگر انسانوں کو مؤمن اور غیر مؤمن کے درجوں میں محض ایک ظاہری اور رسمی تقسیم کے طور پر دیکھا جائے، تو یہ تقسیم اپنی حقیقی معنویت کھو دیتی ہے۔ کیونکہ ایمان اپنی حقیقت میں صرف زبانی اعلان یا ظاہری وابستگی کا نام نہیں، بلکہ ایمان تو درحقیقت حق کے واضح ہو جانے کے بعد اس کے مقابلے میں اختیار کیے گئے شعوری موقف کا نام ہے۔
اسی طرح ایمان سے دوری بھی ہمیشہ شعوری انکار اور ضد کا نتیجہ نہیں ہوتی، بلکہ بعض اوقات یہ جہالت، فکری محدودیت، یا حقیقت کے مسخ شدہ تعارف کا نتیجہ ہوتی ہے۔ انسانوں کے درمیان یہی تفاوت دراصل اس امر کو واضح کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ نہایت دقیق، تدریجی اور حکیمانہ ہوگا، نہ کہ ایک ایسا جامد حکم جو سب انسانوں پر یکساں طور پر نافذ کر دیا جائے۔
پس اسی تناظر میں ایمان کایہ اخلاقی پہلو زیادہ واضح ہو کر سامنے آتا ہےکہ اسلام میں ایمان اخلاق کا متبادل نہیں، بلکہ یہ اس کی گہرائی، پختگی اور فکری بنیاد ہے۔ ایمان دراصل اخلاق کو اس کے معرفتی سرچشمے سے جوڑتا ہے اور انسان کے اعمال کو ایک بامعنی جہت عطا کرتا ہے۔ قرآنِ مجید بار بار ایمان اور عملِ صالح کو ایک دوسرے کے ساتھ ذکر کرتا ہے: (إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ) بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے۔(سورۂ البقرۃ:25)
یہ تلازم اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ اخلاقی قدر و قیمت کو انسان کے تصورِ حیات اور اس کی فکری نگاہ سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ایسا ایمان جو انسان کے کردار، رویّے اور عمل سے ظاہر نہ ہو، اپنی حقیقی روح سے خالی ہوتا ہے۔ اسی طرح عمل بھی اُس وقت اپنی گہرائی اور معنویت کھو دیتا ہے جب وہ کسی اعلیٰ فکری و روحانی مقصد اور معنی سے کٹ جائے۔
دوسری جانب اسلام اس حقیقت سے انکار نہیں کرتا کہ انسان اپنی عقل اور فطرت کے ذریعے بعض اخلاقی اقدار کو پہچان سکتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا﴾ یعنی انسان کے نفس میں خیر و شر کا ایک ابتدائی شعور ودیعت کر دیا گیا ہے۔ تاہم یہ ادراک اپنی نوعیت میں جزوی اور محدود ہوتا ہے، اور وہ اس ہدایت سے بے نیاز نہیں کر سکتا جو حق کی مکمل تصویر واضح کرتی ہے اور ان اخلاقی اقدار کو ان کے صحیح تناظر میں رکھتی ہے۔ اسی لیے اسلام میں اخلاق محض جذباتی یا فطری ردِّعمل کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسے جامع نظام کا حصہ ہیں، جو معرفت اور عمل، حقیقت اور سلوک، فکر اور کردار کے درمیان گہرا ربط قائم کرتا ہے۔
چنانچہ عدلِ الٰہی کو اس زاویے سے سمجھا جاتا ہے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ وہ نہ کسی بے بنیاد امتیاز پر قائم ہے، اور نہ ہی ظاہری وابستگیوں اور رسمی عنوانات پر، بلکہ یہ انسان کی مکمل حقیقت کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ صرف یہ نہیں دیکھتا کہ انسان نے کیا عمل کیا، بلکہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ وہ کیا کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ وہ صرف اس کے عقیدے کو نہیں دیکھتا، بلکہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ وہ اس موقف تک کن حالات، کن تجربات اور کس درجۂ فہم کے ساتھ پہنچا۔ اسی طرح فیصلہ محض نتیجے کی بنیاد پر نہیں ہوتا، بلکہ اُس پورے راستے اور سفر کو بھی ملحوظ رکھا جاتا ہے جو انسان کو اس نتیجے تک لے کر آیا۔
پس یہی وہ دقیق اور گہری نگاہ ہے جو عدلِ الٰہی کو انصاف کے عین مطابق قرار دیتی ہے، نہ کہ اس کے متعارض، کیونکہ یہ ہر انسان کو اس کی حقیقی حالت، اصل ظرف اور واقعی پس منظر کے ساتھ دیکھتی ہے، نہ کہ اس کی کسی سادہ اور سطحی تصویر کی بنیاد پر۔
اسلامی تصورِ عدل ایک ایسا متوازن اور مربوط فکری نظام پیش کرتا ہے جو انسان کی آزادی اور اس کی ذمہ داری، اس کی قدرت اور اس کی حدود، نیز اس کے علم اور اُس سے پوشیدہ حقائق کے درمیان مکمل توازن قائم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تصور اُن فکری مغالطوں سے بلند ہو جاتا ہے جو اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب انسان کو صرف ایک ہی زاویے سے دیکھا جائے، یا اسے اس کے حالات، ماحول اور سیاق و سباق سے الگ کر کے سمجھنے کی کوشش کی جائے۔اسلامی فلسفۂ عدل انسان کو ایک ایسی مخلوق کے طور پر دیکھتا ہے جو امکان، معرفت اور اختیار کے درمیان زندگی گزارتی ہے، اور اسی مجموعی حقیقت کو سامنے رکھ کر اس کا محاسبہ کیا جاتا ہے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اسلام میں عدلِ الٰہی کا معیار نہ تو محض ظاہری وابستگی ہے،اور نہ ہی صرف کسی مجرد عمل کا ظہور، بلکہ اس کی بنیاد انسان اور حقیقت کے درمیان قائم ہونے والے گہرے تعلق پر ہے۔ اصل معیار یہ ہے کہ انسان نے کیا جانا؟ جس حقیقت تک وہ پہنچا، اس کے ساتھ اس نے کیا رویّہ اختیار کیا؟ اور وہ حقیقتاً کس حد تک قدرت و استطاعت رکھتا تھا؟اسی تناظر میں عدلِ الٰہی کوئی ایسا پیچیدہ معما نہیں رہتا جسے حل کرنے کی ضرورت ہو، بلکہ وہ ایک ایسی حکمت کے طور پر سامنے آتا ہے جو ہر انسان کو اس کے حقیقی جگہ پر رکھتی ہے، اور اس کا محاسبہ کسی فرضی اور مجرد تصور کی بنا پر نہیں بلکہ اس کا محاسبہ اس کے واقعی حالات، اس کے فہم، اس کی استطاعت اور اس کے عملی رویّے کے مطابق کرتی ہے۔