مصطفى الهجري
کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ جب آپ کا بچہ یہ سوال کرتا ہے کہ اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ تو وہ آپ کے جواب کو پوری طرح سمجھ نہیں پاتا؟ جب آپ اسے یہ سمجھاتے ہیں کہ موجودات دو قسم ہوتے ہیں: ایک وہ جو اپنے وجود کے لیے خالق اور سبب کی محتاج ہیں، اور دوسری وہ جو کسی سبب اور علت کی محتاج نہیں، تو عموماً بچہ اس بات کو سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔ وہ ایسے وجود کا تصور نہیں کر پاتا جو کسی سبب کے بغیر ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا ادراک ابھی تک انہی چیزوں کے دائرے میں محدود ہوتا ہے جنہیں وہ دیکھتا اور اپنے اردگرد محسوس کرتا ہے۔ اس نے اب تک صرف انہی موجودات کو دیکھا ہے جو حادث ہیں اور کسی خالق کی محتاج ہیں، اسی لیے وہ اسی اصول کو ہر چیز پر منطبق کر دیتا ہے۔
یہ عمل نہ کوئی اخلاقی کمزوری ہے اور نہ فکری نقص، بلکہ یہ انسانی ادراک کی اس محدودیت کا اظہار ہے جو اپنی مانوس حدود سے آگے بڑھنے میں دشواری محسوس کرتی ہے۔ ساتھ ہی یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ انسان فطری طور پر ہر چیز کو انہی تصورات اور پیمانوں کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے جن سے وہ واقف ہوتا ہے۔ انسانی ذہن اپنی ساخت کے اعتبار سے نامعلوم کو معلوم پر، مطلق کو محدود پر، اور لا متناہی حقیقت کو اپنی مانوس صورتوں پر قیاس کرنے کی طرف مائل رہتا ہے۔یہ رجحان صرف انسان تک محدود نہیں بلکہ دیگر مخلوقات میں بھی پایا جاتا ہے، جیسا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں آیا ہے کہ:شاید چھوٹی چیونٹیاں یہ گمان کرتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے بھی دو سونڈیاں (یا دو باریک شاخ نما اعضا) ہوں گی، کیونکہ ان کے نزدیک یہی کمال ہے، اور وہ یہ تصور کرتی ہوں کہ جس میں یہ صفت نہ ہو، اس کے لیے یہ ایک نقص ہے۔پس چیونٹی اپنے محدود جہان کے مطابق خدا کا تصور کرتی ہے، اسی طرح انسان بھی اکثر اللہ تعالیٰ کو اپنے انسانی دائرۂ فہم کے مطابق سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تنزیہ کے اصول کی شدید ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
انسان اپنے تصورات کو خدا پر منطبق کرتا ہے
چونکہ انسان خود ایک ممکن اور محتاج مخلوق ہے، اس لیے وہ علم، قدرت، ارادہ، حیات، کلام، سماعت اور بصارت جیسی صفات کو اپنے تجربے کے مطابق سمجھتا ہے۔ پھر وہ انہی صفات کو اللہ تعالیٰ کے لیے بھی ثابت کرتا ہے، البتہ اس فرق کے ساتھ کہ ان تمام نقائص اور حدود کی نفی کر دیتا ہے جو انسان کے ساتھ وابستہ ہیں۔ چنانچہ وہ ایمان رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ: اپنی ذات میں واجب ہے، کسی دوسرے کا محتاج نہیں۔تمام معلومات کا علم رکھتا ہے، مگر اس کا علم حاصل کردہ نہیں۔تمام ممکنات پر قدرت رکھتا ہے، مگر اس کی قدرت محدود نہیں۔ہمیشہ زندہ ہے، اسے موت یا فنا لاحق نہیں ہوتی۔صاحبِ ارادہ ہے، مگر اس کے ارادے میں باہمی کشمکش یا اضطراب نہیں۔سننے اور دیکھنے والا ہے، مگر اعضاء اور آلات کے ذریعے نہیں۔
یہی دراصل اللہ تعالیٰ کی معرفت کا درست طریقہ ہے کہ صفات کے اصل معنی کو تسلیم کیا جائے، لیکن انہیں مخلوق کی حدود اور نقائص سے پاک سمجھا جائے۔اسی لیے انسان کو ایسی صفت پر ایمان لانے کا مکلف نہیں بنایا گیا جس کا کوئی ادراک یا مناسب مثال اس کے ذہن میں موجود ہی نہ ہو، کیونکہ جس حقیقت کی کوئی مثال سرے سے موجود نہ ہو، اسے حقیقتاً سمجھنا ممکن نہیں ہوتا۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کی گہرائی کو اس معروف قول میں بیان کیا گیا ہے: “جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا، اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔”یعنی انسان جب اپنی صفات کو نقص، محدودیت اور حادث ہونے کے اعتبار سے پہچانتا ہے، تو اسے یہ ادراک ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے بھی ان صفات کی اصل حقیقت موجود ہے، لیکن کامل، مطلق اور ہر نقص سے پاک صورت میں۔
تشبیہ کی اصل: محدود کو مطلق پر قیاس کرنا
جب انسان اس بنیادی فرق کو نظر انداز کر دیتا ہے تو وہ تشبیہ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ چنانچہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد کا تصور قائم کرتے ہیں، وہ دراصل یہ سمجھتے ہیں کہ اولاد جس طرح انسان کے لیے کمال ہے، اسی طرح خدا کے لیے بھی ہوگی۔ اسی طرح جو لوگ خدا کے لیے جسمانیت کے قائل ہوئے، انہوں نے یہ گمان کیا کہ جسم، شکل و صورت اور امتداد کامل وجود کے لازمی تقاضے ہیں۔ اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف تغیر، انفعال یا کیفیتوں کی نسبت دی، انہوں نے درحقیقت خدا کو اپنے ہی اوصاف پر قیاس کیا۔تاریخ میں پیدا ہونے والے بہت سے اعتقادی اختلافات کی جڑ یہی رہی ہے کہ خالق کو مخلوق پر قیاس کیا گیا۔
قرآنِ مجید نے اس باطل بنیاد کو جڑ سے ختم کرتے ہوئے فرمایا:(لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ) اس جیسی کوئی چیز نہیں، اور وہی خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے۔ یہ آیت ایک ساتھ دو حقیقتوں کو بیان کرتی ہےکہ ایک طرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہر قسم کی تشبیہ کی نفی کرتی ہے، اور دوسری طرف اس کی صفات کو ثابت بھی کرتی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ سننے والا اور دیکھنے والا ہے، لیکن اس کا سننا اور دیکھنا مخلوق کے سننے اور دیکھنے کی مانند نہیں۔اسی لیے اسلام نے تنزیہ کے اصول کو مختلف جہات سے مضبوط کیا ہے۔
اول: ذاتِ الٰہی کو صورت، حد اور جہت سے پاک قرار دینا
جیسا کہ قرآن کہتا ہے:(لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ ) نگاہیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرتا ہے) سورۂ انعام (103) اور ایک اور مقام پر فرمایا: (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ) کہدیجیے: وہ اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے۔(سورہ اخلاص )پس اللہ تعالیٰ ہر قسم کی شکل، جہت، مثال، مشابہت اور نسب سے پاک و منزّہ ہے۔
دوم: صفاتِ الٰہی کو مخلوق کی مشابہت سے پاک قرار دینا
جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:(إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ) بے شک اللہ دلوں کے رازوں کا خوب علم رکھتا ہے۔(سورۂ آلِ عمران: 119) اور فرمایا:(وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ) اور غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔( سورۃ الانعام ۵۹) اسی طرح ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ) بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔(سورۃ البقرہ: ۲۰) پس اللہ تعالیٰ علم رکھتا ہے، مگر کسی محدود عقل کے ذریعے نہیں، اور قدرت رکھتا ہے، مگر کسی جسمانی قوت کے ذریعے نہیں۔
سوم: افعالِ الٰہی کو انسانی اغراض سے پاک سمجھنا
انسان عموماً کسی فائدے کے حصول یا نقصان سے بچنے کے لیے عمل کرتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ ہر قسم کی حاجت سے بے نیاز ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہوتا ہے: (يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ) اے لوگو! تم سب اللہ کے محتاج ہو اور اللہ ہی بے نیاز، سزاوارِ حمد ہے۔(سورۃ فاطر، آیت 15) اور ایک اور مقام پر فرمایا: (مَا أُرِيدُ مِنْهُمْ مِنْ رِزْقٍ) میں ان سے نہ کوئی رزق چاہتا ہوں (سورۂ الذاریات، آیت 57) یعنی اللہ تعالیٰ نہ کسی منفعت کا محتاج ہے اور نہ کسی نقصان سے بچنے کے لیے عمل کرتا ہے۔
چہارم: الٰہی طرزِ عمل کو انسانی نقائص سے منزّہ قرار دینا
جیسا کہ قرآنِ کریم میں فرمایا گیا: (وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا) اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔( سورۂ الکہف، آیت 49) اور فرمایا: (وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ) اور ہم نے آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا۔(سورۃ الدخان، آیت 38) اسی طرح ارشاد ہوا: (وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا) اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے۔(سورۂ مریم، آیت 64) اور فرمایا: (وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبٍ) اور ہمیں کسی قسم کی تھکاوٹ نہیں پہنچی(سورۂ ق، آیت 38) یہ تمام آیات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر اس طرزِ عمل سے پاک ہے جو انسانی کمزوری، عجز یا نقص پر مبنی ہو۔
تشبیہ اور تعطیل کے درمیان اعتدال
اگر تشبیہ ایک غلطی ہے تو صفاتِ الٰہی کی نفی میں مبالغہ اس کے مقابل دوسرا فکری انحراف ہے۔بعض علماء نے تنزیہ کے تصور میں اس قدر مبالغہ کیا کہ صفاتِ الٰہی کو محض نفی تک محدود کر دیا۔ چنانچہ انہوں نے کہا کہ اللہ کے عالم ہونے کا مطلب صرف یہ ہے کہ وہ جاہل نہیں، اور “قادر” ہونے کا مطلب صرف یہ ہے کہ وہ عاجز نہیں، بغیر اس کے کہ علم اور قدرت کے کسی حقیقی اور مثبت معنی کو ثابت کیا جائے۔
یہ طرزِ فکر دراصل عقل کو اللہ تعالیٰ کی معرفت سے محروم کر دیتا ہے، کیونکہ اس میں صفاتِ الٰہی کی حقیقی معنویت باقی نہیں رہتی۔ لیکن اسلام کا مقصود یہ ہرگز نہیں۔ بلکہ اسلام یہ چاہتا ہے کہ صفاتِ الٰہی کو ثابت بھی رکھا جائے اور انہیں انسانی حدود و قیود سے پاک بھی سمجھا جائے۔ چنانچہ علمِ الٰہی سے مراد مطلق اور کامل احاطہ ہے، نہ کہ ذہنی تصورات کی وہ صورت جو انسان کے ہاں پائی جاتی ہے۔ اسی طرح قدرتِ الٰہی کا مطلب ارادے کا کامل نفوذ ہے، نہ کہ جسمانی مشقت اور کوشش۔ اور ارادۂ الٰہی سے مراد حکمت کے ساتھ کسی امر کی تعیین ہے، نہ کہ انسانی نفس کی طرح تردد اور کشمکش۔ یہی دراصل متوازن توحید ہے۔
خلاصۂ کلام
اللہ تعالیٰ کی تنزیہ محض جسمانیت کی نفی کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی عقل کو محدود تصورات کی قید سے آزاد کرنے کا عمل ہے۔ انسان اپنی فطرت کے تحت ہمیشہ یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ اپنے مانوس تصورات کو خدا پر منطبق کرے، لیکن وحیِ الٰہی اسے یہ تعلیم دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر صورت، ہر قیاس اور ہر نقص سے بلند و برتر ہے۔ اس کے باوجود وحی نے انسان کو معرفت کے خلا میں بھی نہیں چھوڑا، بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کی معرفت کا راستہ دکھایا۔ وہ راستہ یہ ہے کہ انسان صفاتِ کمال کے اصل مفہوم کو سمجھے، پھر ان تمام حدود اور نقائص سے انہیں پاک تصور کرے جو عالمِ بشریت کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اسی اعتدال کا نام حقیقی توحید ہے۔ ایسی توحید جس میں نہ تشبیہ ہو کہ خدا کو مخلوق جیسا بنا دیا جائے، اور نہ تعطیل (صفاتِ الٰہی کی نفی) ہو کہ صفاتِ الٰہی کو بے معنی کر دیا جائے، بلکہ کمالِ مطلق کا اثبات ہو، ساتھ ہی ہر قسم کی محدودیت سے تنزیہ بھی۔ یہی اسلامی عقیدے کا جوہر اور قرآنِ مجید کے اس فرمان کا خلاصہ ہے:(لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ) اس جیسی کوئی چیز نہیں، اور وہی خوب سننے والاہے۔(سورۂ الشوریٰ، آیت 11)